سابق امریکی عہدیدار اور قدامت پسند سماجی شخصیت کیری پریجیئن بولر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے علانیہ اختلاف کیا ہے کہ امریکا کی ایران کے ساتھ جنگ دراصل اسرائیلی اثر و رسوخ کا نتیجہ ہے، جس سے "امریکا فرسٹ” بیانیے پر شدید سوالات اٹھ گئے ہیں۔
برطانوی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بولر نے کہا کہ وہ اب اپنے صدر کو پہچان نہیں رہیں، جنہیں وہ کبھی قریبی دوست قرار دیتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایک "زیرِ اثر ریاست” بنتا جا رہا ہے اور ملکی پالیسیوں پر بیرونی قوت، خاص طور پر اسرائیل، کا اثر نمایاں ہے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے بار بار دورۂ امریکا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
بولر نے مزید کہا کہ "میگا” تحریک اب ختم ہو چکی ہے اور عام امریکی شہری ایران کے ساتھ جنگ کے سخت خلاف ہیں۔ ان کے مطابق عوام سمجھتے ہیں کہ اس جنگ کی بنیادی وجہ اسرائیل ہے۔
ادھر ٹرمپ کے قریبی حلقوں میں بھی اختلافات سامنے آنے لگے ہیں۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ نے اپنے استعفے میں ایران جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکا کے لیے فوری خطرہ نہیں تھا اور یہ تنازع اسرائیلی دباؤ کے باعث شروع ہوا۔
یاد رہے کہ کیری پریجیئن بولر کو گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس کے مذہبی آزادی کمیشن سے بھی ہٹا دیا گیا تھا، جبکہ ان کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب 28 فروری سے جاری امریکا-اسرائیل مشترکہ کارروائیوں کے بعد ایران جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال نے ریپبلکن حلقوں میں واضح تقسیم پیدا کر دی ہے اور "امریکا فرسٹ” پالیسی کے حقیقی مفہوم پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
