turky-urdu-logo

مہاجرین کے بحران کے لیے ترکی کو مورد الزام ٹھہرانا حقیقی معنوں میں ناشکری ہے؛ ایردوان

ترک صدر ایردوان  کا کہنا  ہے کہ مہاجرین کے بحران کے لیے ترکی کو مورد الزام ٹھہرانا حقیقی معنوں میں  ناشکری ہے۔

ترک صدر  نے ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان کے ہمراہ پریس  کونفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  یہ یونان  ہے جو مہاجر کشتیوں  کا رخ موڑ کر  انہیں موت کے منہ میں پہنچا ر ہا ہے ۔ ہمارے پاس تمام دستاویزات موجود ہیں۔

انہوں نے یونان کے شمالی علاقے میں امریکی فوج کی موجودگی کی طرف  اشارہ کرتے ہوئے کہا  کہ یونان بنیادی طور  پر “امریکی فوجی اڈے میں تبدیل ہو چکا ہے”۔

ہنگر ی   کے وزیر اعظم  نے  خطاب  کرتے ہو  ئے کہا کہ   بحیرہ روم ، مغربی بلقان اور بیلا روس  سے مہاجرین کی آمد میں اضافہ  ہو رہا  ہے اس لیے  ضروری ہے کہ  یورپ کے گرد دفاعی دائرہ کار  قائم کیا جائے۔

ہمیں اپنے دوست ملک ترکی کو مہاجرین  کے حوالے سے مدد فراہم کرنی چاہیے اور اس  زمن میں  یورپی یونین کو بھی اپنا   کردار ادا کرنا چائیے۔

ترکی اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے اس کے علاوہ افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کا ترکی اور یورپ کا رخ کرنے کا ندیشہ ہے۔

پریس کانفرنس سے قبل دونوں رہنماوں میں  ملاقات ہوئی  ۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات ، بین الاقوامی  مسائل اور  معاشی تعاون بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترک صدر  نے ہنگری  کے ساتھ تعاون بڑھانےکے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا   دونوں ممالک کےدرمیان  تجارت  کا حجم 4 بلین ڈالر سے بڑھا کر 6 ملین ڈالرز تک کیا جائے گا ۔

Read Previous

افغانستان کی سرکاری ایئرلائن کی کابل سے اسلام آباد کے لیے پروازیں بحال

Read Next

ٹرائیکا پلس: پاکستان، روس، امریکہ اور چین کا افغان حکومت سے تعلقات قائم رکھنے پر اتفاق

Leave a Reply