Turkiya-Logo-top

بِلِجک کی 104 سالہ آزادی کی کہانی، ایک شہر جس نے صدیوں میں کئی سلطنتیں بدلتے دیکھیں

ایک ایسا شہر جو کبھی بازنطینی سرحد کا حصہ تھا، پھر عثمانی ریاست کے ابتدائی سفر کا گواہ بنا، اور صدیوں بعد اسی شہر پر ایک غیر ملکی فوج نے قبضہ کر لیا۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ جنگ، قبضے، تباہی اور دوبارہ آزادی کے بعد آج بِلِجک ایک ایسے دن کی 104ویں سالگرہ منا رہا ہے جو اس کے جدید تاریخی سفر میں فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ آخر 6 ستمبر 1922 کو بِلِجک میں ایسا کیا ہوا تھا، اور عثمانی دور سے پہلے اور بعد میں اس شہر کی اصل حیثیت کیا تھی؟ اس سوال کا جواب بِلِجک کی صدیوں پر محیط تاریخ میں چھپا ہے۔

بِلِجک کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ اسے صرف ’’عثمانی شہر‘‘ کہنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ یہ خطہ عثمانیوں سے کئی صدیوں پہلے بھی آباد اور مختلف تہذیبوں و سلطنتوں کا حصہ رہا تھا۔ رومی سلطنت کی تقسیم کے بعد یہ مشرقی رومی، یعنی بازنطینی سلطنت کے زیرِ اثر آیا اور ایک طویل عرصے تک بازنطینی سرحدی علاقے کے طور پر اہمیت رکھتا رہا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

پھر اناطولیہ میں ترک طاقت کا اثر بڑھنے لگا۔ 1071 کی ملازگرد کی جنگ کے بعد سلجوقی ترکوں نے اناطولیہ میں اپنی موجودگی مضبوط کی اور بِلِجک کا خطہ بھی اس بڑی تاریخی تبدیلی سے متاثر ہوا۔ تاہم یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی تھی۔ کئی علاقوں کی طرح یہاں بھی مختلف طاقتوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش جاری رہی، جس کے باعث بِلِجک کی شناخت وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہی۔

پھر اس شہر کی تاریخ میں ایک ایسا موڑ آیا جس نے آنے والی کئی صدیوں کا رخ بدل دیا۔ ارطغرل غازی کی قیادت میں قائی قبیلے کے لوگ سوغوت اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں آباد ہوئے۔ سوغوت آج بِلِجک صوبے کا حصہ ہے اور عثمانی تاریخ میں اسے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہی وہ خطہ تھا جہاں عثمان غازی کی قیادت میں ایک چھوٹی سی ترک ریاست نے جنم لیا، جو آگے چل کر عظیم عثمانی سلطنت بنی۔

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ عثمانی ریاست کا ابتدائی مرکز اور آج کا بِلِجک شہر ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ سوغوت اور بِلِجک کا پورا خطہ عثمانی ریاست کے ابتدائی قیام سے گہرا تعلق رکھتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ سرزمین عثمانیوں سے پہلے کسی اور کے زیرِ اقتدار نہیں تھی۔ دراصل یہی تبدیلیاں بِلِجک کو تاریخی اعتبار سے دلچسپ بناتی ہیں۔

صدیاں گزرتی گئیں اور عثمانی ریاست ایک وسیع سلطنت میں تبدیل ہوگئی۔ بِلِجک بھی عثمانی سلطنت کا حصہ رہا اور خطے کی انتظامی، معاشی اور سماجی زندگی میں شامل ہوگیا۔ لیکن پہلی جنگِ عظیم کے بعد وہ سلطنت جس نے صدیوں تک تین براعظموں میں حکومت کی تھی، شدید بحران کا شکار ہوگئی۔ جنگ میں شکست کے بعد اناطولیہ کا مستقبل بھی غیر یقینی ہوگیا۔

اسی ہنگامہ خیز دور میں بِلِجک ایک مرتبہ پھر تاریخ کے مرکز میں آگیا۔ یونانی فوج نے مغربی اناطولیہ میں پیش قدمی کی اور بِلِجک بھی اس فوجی کارروائی سے محفوظ نہ رہ سکا۔ 1921 میں شہر پر یونانی قبضہ ہوا، اگرچہ جنگِ اِنونو کے بعد یونانی فوج کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ اس کے بعد یونانی افواج نے دوبارہ پیش قدمی کی اور بِلِجک ایک بار پھر قبضے میں چلا گیا۔

یہ قبضہ مستقل نہیں تھا، لیکن بِلِجک کے لوگوں کے لیے یہ دور انتہائی مشکل ثابت ہوا۔ شہر بار بار جنگی حالات کی زد میں آیا اور اس کے آس پاس کے علاقے بھی لڑائیوں کا میدان بن گئے۔ ترک قومی جدوجہد اور یونانی افواج کے درمیان ہونے والی جنگوں نے پورے مغربی اناطولیہ کا نقشہ بدلنا شروع کر دیا۔

پھر 1922 آیا، اور جنگ کا رخ فیصلہ کن طور پر بدل گیا۔ 26 اگست کو ترک افواج نے عظیم جارحانہ کارروائی شروع کی۔ 30 اگست کو دوملوپنار میں فیصلہ کن فتح کے بعد یونانی فوج کی پسپائی شروع ہوگئی۔ ترک فوج تیزی سے مغرب کی طرف بڑھتی گئی اور ایک کے بعد ایک علاقے دوبارہ اپنے کنٹرول میں لاتی چلی گئی۔

پھر وہ دن آیا جس کا بِلِجک کو انتظار تھا۔ 6 ستمبر 1922 کو بِلِجک یونانی قبضے سے آزاد ہوگیا۔ سوغوت اس سے دو دن پہلے، یعنی 4 ستمبر کو آزاد ہو چکا تھا، جبکہ پازاریری 5 ستمبر کو دوبارہ ترک کنٹرول میں آیا۔ یوں بِلِجک کی آزادی بھی ترک قومی جدوجہد کے آخری مرحلے کی اہم کامیابیوں میں شامل ہوگئی۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

لیکن آزادی کی یہ تصویر صرف جشن کی نہیں تھی۔ یونانی افواج کے انخلا کے دوران بِلِجک کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ متعدد مکانات، دکانیں، سرکاری عمارات، اسکول، مساجد اور ریشم کی صنعت سے وابستہ عمارات تباہ یا متاثر ہوئیں۔ یعنی جس دن شہر آزاد ہوا، اس دن اس کے لوگوں کے سامنے ایک نیا مسئلہ بھی موجود تھا: اب ایک تباہ شدہ شہر کو دوبارہ کیسے آباد کیا جائے؟

وقت گزرا، شہر دوبارہ آباد ہوا اور بِلِجک نے جنگ کے زخموں سے نکل کر جدید دور کی طرف سفر شروع کیا۔ آج یہ علاقہ صرف عثمانی ریاست کی ابتدائی تاریخ کی وجہ سے اہم نہیں بلکہ ترک قومی جدوجہد کے ایک اہم باب کی یاد بھی اپنے اندر محفوظ رکھتا ہے۔

2026 میں بِلِجک 6 ستمبر 1922 کی آزادی کو 104 سال مکمل ہونے پر یاد کر رہا ہے۔ یہ 104 سال دراصل صرف ایک تاریخ کا فاصلہ نہیں بلکہ صدیوں کی تبدیلیوں کا سفر ہیں؛ بازنطینی دور سے سلجوقی اثرات تک، وہاں سے عثمانی ریاست کے جنم تک، پھر سلطنتِ عثمانیہ کے آخری دور، یونانی قبضے، جنگ اور بالآخر آزادی تک۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

اسی لیے بِلِجک کو سمجھنے کا بہترین طریقہ اسے صرف ’’عثمانی شہر‘‘ کہنا نہیں بلکہ ایک ایسی تاریخی سرزمین کے طور پر دیکھنا ہے جس نے مختلف سلطنتوں کے عروج و زوال، جنگوں اور سیاسی تبدیلیوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا۔ اور 6 ستمبر 1922 وہ دن تھا جب اس طویل داستان کا ایک نیا باب شروع ہوا—ایک ایسا باب جو آج جدید جمہوریہ ترکیہ کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

Read Previous

اگر عوام نئے صوبے چاہتے ہیں، تو پھر یہ ہر صورت بننے چاہیے، وزیر داخلہ محسن نقوی

Leave a Reply