امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے دوران جہاں حالیہ دنوں میں سفارتی حل کی امیدیں جنم لے رہی تھیں، وہیں ایک ہدفی حملے نے ان کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کی کارروائی میں ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی شہید ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی بسیج فورسز کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کی شہادت کا بھی دعویٰ کیا گیا، جس کی تصدیق ایرانی حکام نے بھی کی۔
یہ واقعہ ایک نہایت حساس وقت میں پیش آیا، جب عالمی سطح پر کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی جنگ کے خاتمے کے اشارے سامنے آ رہے تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملہ امن عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق علی لاریجانی کو تہران میں ایک خفیہ مقام پر نشانہ بنایا گیا۔ بعض اطلاعات میں ان کے اہلِ خانہ کے بھی متاثر ہونے کی خبریں سامنے آئی ہیں، تاہم اس کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
واقعے کے بعد ایران نے کشیدگی کم کرنے سے متعلق تجاویز کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ جب تک امریکا اور اسرائیل اپنی جارحانہ کارروائیاں بند نہیں کرتے، کسی قسم کی مفاہمت ممکن نہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس سے ایرانی نظام کو دھچکا پہنچا ہے۔ انہوں نے ایرانی عوام سے حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل بھی کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ایک اہم رہنما کو ہلاک کیا گیا، جنہیں انہوں نے مظاہرین کے خلاف کارروائیوں کا ذمہ دار قرار دیا۔
اقوامِ متحدہ نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کی ہدفی کارروائیاں مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید پیچیدگی کا باعث بنتی ہیں۔ عالمی ادارے کے مطابق، اس تنازع کا واحد حل سفارتی راستہ ہی ہے۔
ماہرین کے مطابق علی لاریجانی ایران کی بااثر سیاسی شخصیات میں شامل تھے اور حالیہ عرصے میں ریاستی امور میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی شہادت کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
