fbpx
ozIstanbul

اسرائیل کو اسلحہ درآمد کرنے والے ممالک اور کمپنیاں کون کون سی ہیں؟

اسرائیل اور غزہ کشیدگی آج کی بات نہیں ہے بلکہ کئی دہائیوں پرانی ہے ۔ فلسطین پر قابض اسرائیل جدید ٹیکنالوجی سے تیار شدہ اسلحہ سے لیس نہتے فلسطینوں پر زور آزمائی کرتا رہتا ہے جس کی حالیہ مثال گزشتہ دونوں میں غزہ کے رہائشی علاقوں پر ہونے والے راکٹ حملے ہیں۔ جس کے نتیجے میں کئی رہائشی عمارتیں، ہسپتال اور عالمی وبا کورونا کے تشحیصی سینٹر تباہ ہو گئے۔ مالی نقصان کے علاوہ قیمتی جانوں کے ضیائع کا ذمہ دار بھی اسرائیلی راکٹ حملے ہیں۔

دوسری جانب حماس کے راکٹ گھریلو نسحوں سے تیار کردہ ہیں جن میں کوئی ٹیکنالوجی استعمال نہیں کی گئی دونوں ممالک میں اسلحہ کے لخاظ سے کوئی مقابلہ نہیں۔ اسرائیل اس وقت اسلحہ کی درآمد میں دنیا کا آٹھوں بڑا ملک ہے۔

ایک طرف تو اسرائیل مقامی طور پر اسلحہ تیار کر رہا ہے اور ملک میں جنگی ہتھیار تیار کرنے کےصنعت بھی موجود ہے دوسری طرف کئی ممالک سے کھربوں ڈالرز کی لاگت کا جدید اسلحہ درآمد بھی کر رہا ہے۔

جنگی جرائم کا مرتکب ہونے کے باوجود اسرائیل کو اسلحہ درآمد کرنے والے ممالک میں پہلا نمبر امریکہ کا ہے۔

امریکہ اسرائیل کو اسلحہ درآمد کرنے وال سب سے بڑا ملک ہے ۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سیپری) کے آرمس ٹرانسفر ڈیٹا بیس کے مطابق سن 2009 اور 2020 میں اسرائیل کا 70فیصد اسلحہ امریکہ سے خریدا ہوا ہے۔

سیپری کے ریکارڈ کے مطابق امریکہ نے اسرائیل کو ہتھاروں کی درآمد 1961میں شروع کی اور یہ تجارت آج تک جاری ہے۔
برطانوی کمپنی اور اسلحہ تجارت کے خلاف مہم (CAAT) کے اعداوشمار کے مطابق امریکہ نے 2013 سے 2017 تک 4 ارب 90 کڑور ڈالرز کے ہتھار اسرئیل کو درآمد کیے۔ حالیہ دنوں میں بھی امریکی ساختہ بم غزہ پر بمباری میں استعمال کیے گئے جس کا ثبوت غزہ سے جاری کردہ تصاویر ہیں ۔

امریکہ کے بعد جرمنی اسرائیل کو ہتھیار درآمد کرنے والا بڑا ملک ہے۔ سن 2009 سے 2020 تک اسرائیل کے جنگی ہتھاروں کا 24 فیصد جرمنی سے درآمد شدہ ہے۔

جرمنی کے اسرائیل کو درآمد شدہ ہتھاروں کا اعداوشمار موجود نہیں ہے البتہ کیٹ کے مطابق جرمنی کی جانب سے جاری کردہ لائنس کے مطابق جرمنی نے اسرائیل کو ایک ارب 60 کڑور اسلحہ درآمد کیا۔

سیپری کے مطابق جرمنی نے اسرائیل کو 1960اور 70 کی دہائی میں اسلحہ فراہم کیا جس کا باقاعدہ سلسلہ 1994 سے آج تک جاری ہے۔

2009 سے لے کر 2020 تک اسرائیل کی کل اسلحہ برآمد ات میں سے 5.6 فیصد حصہ اٹلی سے درآمد شدہ اسلحے کا ہے۔
ڈیفنس نیوز کے مطابق ، دونوں ممالک کے مابین حالیہ برسوں میں معاہدہ بھی طے پایا جس کے تحت اسرائیل نے میزائل اور دیگر ہتھیاروں کے بدلے تربیتی طیارے حاصل کیے ہیں۔

برطانیہ نے سیپری کے مطابق اسرائیل کو اسلحہ درآمد نہیں کیا البتہ کیٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے 2015 سے اسرائیل کو 40 کڑور کا اسلحہ درآمد کیا۔

سیپری کے اعداوشمار کے مطابق 2009-2021 کے درمیان اسرائیل کے بڑے روایتی ہتھیاروں کی درآمد کا تقریبا 0.3 فیصد کینیڈا سے درآمد شدہ ہے۔

پچھلا پڑھیں

بحرین نے پاکستان سمیت 5 ممالک کے شہریوں پر سفری پابندی عائد کر دی

اگلا پڑھیں

جاپان نے پاکستان، برطانیہ سمیت کئی ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دیں

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے