fbpx
ozIstanbul

آرمینیا کے جنگی جرائم میں ملوث فوجیوں کی آذربائیجانی عدالت میں سماعت

کاراباخ کی پہلی جنگ میں گرفتار آرمینیا کے دو فوجیوں پر جنگی جرائم کی مقدمے کی سماعت آذربائیجان کے ضلع یسمال میں ہوئی۔ سماعت میں میڈیا اور سول سوسائٹی نے شرکت کی۔ آذربائیجان کے جنگی جرائم میں ملوث فوجیوں کا یہ اوپن ٹرائل ہے۔

کاراباخ کی پہلی جنگ میں آرمینیا کے ان فوجیوں نے آذربائیجان کے شہریوں پر وحشیانہ تشدد کیا جس میں سے متعدد افراد شہید ہو گئے تھے۔

باکو ملٹری کورٹ کے جج ایلبے اللہ ویردیوف نے مقدمے کی سماعت کی اور فوجیوں کے خلاف پیش کی گئی دستاویزات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ان متاثرین کو بھی عدالت میں طلب کیا گیا تھا جن پر آرمینیا کے ان فوجیوں نے تشدد کیا تھا۔ وکلا اور عدالت نے ملزمان اور متاثرین پر جرح کی۔

آرمینیا کے فوجیوں کے تشدد کے شکار آذربائیجانی شہری کامل بابایوف نے ملزمان کو ان کی تصویروں سے پہچانا اور عدالت کو ان کے تشدد کے واقعات سے آگاہ کیا۔

ایک اور متاثرہ شخص رؤف غفاروف نے بھی ملزمان کو پہچانتے ہوئے کہا کہ دونوں نے شوشا جیل میں ان پر بدترین تشدد کیا تھا۔

آرمینیا کے ایک فوجی نے بتایا کہ وہ 1993 میں شوشا آیا تھا تاہم متاثرین نے بتایا کہ ملزم 1992 سے شوشا جیل میں تعینات تھا۔

ایک اور متاثرہ فامل علی یوف نے کہا کہ آذربائیجان کے گرفتار فوجیوں نے اس پر کلہاڑیوں سے حملہ اور جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا تھا۔

ایک اور متاثرہ زاہد حسنوف نے کہا کہ 1994 میں آذربائیجان کے فوجی اسے خان کیندی اسپتال سے شوشا جیل لے گئے تھے۔ تشدد سے میری کہنی کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔

متاثرین نے بتایا کہ آرمینیا کے فوجی ان پر یہ کہہ کر تشدد کرتے تھے کہ ہم ترکوں سے نفرت کرتے ہیں۔ وہ پوچھتے تھے کہ ہم کیوں اپنی آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں اسی لئے وہ ہمارے ساتھ مار پیٹ کیا کرتے تھے۔

ایک اور متاثرہ شخص حبیب کاظموف نے کہا کہ جیل میں ان پر بدترین تشدد کیا جاتا تھا۔ انہوں نے تشدد کرنے والے آرمینیا کے دونوں فوجیوں کو شناخت کر لیا۔

شوشا کے ہی ایک رہائشی جاوید حسین نے عدالت کو بتایا 28 سال پہلے جس طرح انہیں جیل میں قید اور تشدد کیا گیا اس کو وہ آج تک نہیں بھولے۔ جیل کے تمام قیدی ہمیشہ کہتے تھے کہ ایک وقت آئے گا جب تم کو اپنے ظلم کا جواب دینا ہو گا اور آج وہ دن آ ہی گیا۔

تمام متاثرین نے عدالت کو بتایا کہ آرمینیا کے فوجی کس طرح ان پر تشدد کرتے رہے۔ ایک متاثرہ شخص کی آنکھ ضائع ہو گئی۔ آرمینیا کے فوجیوں نے اسے لوہے کے راڈ سے مارا اور پھر اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر دوبارہ تشدد کیا۔

عدالت نے متاثرین کے بیانات اور آرمینیا کے گرفتار فوجیوں کی جرم کی تصدیق کے بعد پولیس کو مزید تفتیش کے لئے دونوں فوجیوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا اور مختصر فیصلہ باکو ملٹری کورٹ کو بھیج دیا۔

پچھلا پڑھیں

ٹوئٹر: صارفین کی آسانی کے لیے نیا فیچر متعارف

اگلا پڑھیں

ترک قوم اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتے، صدر ایردوان

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے