Turkiya-Logo-top

خوجالی قتل عام: آرمینیا کی آذربائیجان کے خلاف فوجی جارحیت کو 33 سال بیت گئے

آذربائیجان کے خلاف آرمینیا کی فوجی جارحیت اور قبضے کے دوران “خوجالی قتل عام” کو 33 سال ہو گئے ہیں۔ آرمینیا کی نسل کشی کی پالیسی نے آذربائیجان کے شہریوں کے خلاف غیر انسانی سلوک کا طریقہ اپنایا، جن میں باگانیس آئریم، جامیلی، کارکیجہان، میشالی، مالی بیلی، گشچولر، اور گاراداغلی جیسے علاقے شامل ہیں۔ ان جرائم میں سے سب سے بڑا المیہ خوجالی کے باسیوں کے ساتھ پیش آیا۔

25 اور 26 فروری 1992 کی رات آرمینیا کی مسلح افواج نے خوجالی شہر پر قبضہ کر لیا۔ اس قبضے کے نتیجے میں 613 افراد جن میں بچے، عورتیں اور بزرگ بھی شامل تھے، ان کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ خوجالی قتل عام کوئی حادثہ نہیں، بلکہ آرمینیا کی جانب سے منظم نسل کشی کا ایک سنگین جرم تھا۔

آرمینیا کے دیگر جرائم کی طرح، خوجالی قتل عام بھی بین الاقوامی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے۔

آرمینیا کو اس کے سنگین جرائم کی سزا نہ ملنے کی وجہ سے، اس ملک نے اپنے ماضی کے طریقہ کار کو جاری رکھا اور 44 روزہ جنگ کے دوران باردا، اور ٹرٹر جیسے علاقوں میں جنگ کے جرائم کا ارتکاب کیا۔ یہ اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ انسانیت کے خلاف نسل کشی جیسے جرائم کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ناکامی کے کیا خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں۔

2023 سے آذربائیجان کا پرچم ملک کے تمام علاقوں بشمول خوجالی شہر پر لہرا رہا ہے۔ خوجالی کی آزادی آذربائیجانی عوام کی طاقت اور یکجہتی کی علامت ہے، اور یہ خوجالی قتل عام کے شہداء کے ساتھ وفاداری کا ایک ثبوت ہے۔

خوجالی قتل عام کی 33 ویں سالگرہ کے موقع پر، آذربائیجان کی عوام آرمینیا کی نسل کشی کے نتیجے میں شہید ہونے والے معصوم شہداء کو گہرے احترام اور عقیدت کے ساتھ یاد کر رہے ہیں۔

Read Previous

شام ناقابل تقسیم اور ایک متحد وجود ہے: احمد الشرع

Read Next

ترک سفیر کا دورہ لاہور: اہم شخصیات سے ملاقات سمیت مختلف تقریبات میں شرکت

Leave a Reply