ozIstanbul

جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود

تحریر: وجاہت خان

تاریخ شاہد ہے جس نے بھی کسی قدامت پرست معاشرے میں کوئی ِجدت یا نئی ایجاد متعارف کرانے کی کوشش کی ابتدا میں اس ایجاد کو نہ صرف مسترد کیا گیا بلکہ ان کے استعمال کو حرام اور مکروہ قرار دیا گیا مگر جب معاشرہ ارتقائی عمل طے کرتا ہوا بلوغت کی منازل طے کرنے لگا تو دنیا نے ان ایجادات سے نہ صرف بھرپور استفادہ کیا بلکہ وہ ایجادات رہتی دنیا تک خیر کا ذریعے بھی بن رہی ہیں۔
لاؤڈ سپیکر سے لے کر کیمرے کی ایجاد تک ان سب کو اہلِ مذہب نے نہ صرف مسترد کیا بلکہ اس کے استعمال پر فتوے لگا کر اسے حرام بھی قرار دیا گیا۔۔
مگر آج دنیا کی ترقی انھیں ایجادات کی مرہونِ منت ہے۔۔۔
اگر ہم لمحہ موجود کی بات کریں تو اس وقت جہاں پوری دنیا میں سوائے چائنہ کے کرپٹو کرنسی میں ٹریڈنگ ہو رہی ہے اور اس کے ذریعے لوگوں نے کروڑوں روپے کمائے ہیں۔۔۔
بلکہ روس تو اپنے آئل کی ٹریڈنگ بھی کرپٹو میں کرتا ہے۔یوکرین کی معیشت اگر برباد ہونے سے بچی ہے اس کی بنیادی وجہ بھی کرپٹو میں ٹریڈنگ ہے۔۔
مگر پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے کرپٹو کرنسی کی مائننگ مشینیں پاکستان میں لگائیں ان کو ایف آئی اے نے آ گھیرا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا سرمایہ کار ایف آئی اے کے ڈر سے اپنی مائننگ مشینیں لے کر یا تو ایران چلے گئے اور ان کی اکثریت ترکی کی شہریت لے کر وہاں منتقل ہو چکی ہے جس طرح ماضی میں ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری بنگلہ دیش منتقل ہوگئی تھی۔۔۔
کرپٹو کرنسی کا ذکر کیا جائے اور وقار ذکاء کا نام نہ ہو تو یہ انٹیلیکچوئل بدیانتی ہوگی۔اب آتے ہیں اس بحث کی طرف کہ
کرپٹو کرنسی کا کام کیا پاکستان میں غیر قانونی ہے یا قانونی ہے؟
سندھ ہائی کورٹ میں چئیرمین ٹیکنالوجی موومنٹ پاکستان وقار ذکاء نے ایک پیٹیشن فائل کی جس کا نمبر C.P 7146/2019 ہے۔اس پیٹیشن میں پاکستان کے فائنینشل سیکٹر کے فیصلہ سازوں اور قانون سازوں کو فریق بنایا گیا ہے۔اور یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے وقار ذکاء نے بغیر وکیل خود دو سال تک عدالت میں کرپٹو کا ُمقدمہ لڑا اور عدالت کو سمجھایا کہ کرپٹو کرنسی کیا ہے؟ جس پر سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس کریم آغا نے وقار ذکا کو داد بھی دی۔اسی کیس کی سماعت میں سٹیٹ بینک نے جو سرُکلر دو ہزار اٹھارہ میں نکالا تھا اس کی وضاحت جب کورٹ سے مانگی گئی کہ کس قانون کے تحت سٹیٹ بینک کرپٹو پر پابندی لگا سکتا ہے تو سٹیٹ بینک نے یہ وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہم نے کبھی کرپٹو کو غیر قانونی ڈکلئیر نہیں کیا نہ صرف یہ بلکہ یہ بات بھی زیرِ بحث آئی انگلش common law ہے جو چیز غیر قانونی ہوتی ہے اس کی سزا ُمتعین ہوتی ہے اور جو چیز غیر قانونی ڈکلئیر نہیں ہوتی اسے قانونی سمجھا جاتا ہے ۔یا جب تک پارلیمنٹ میں وہ موضوع زیرِ بحث نہ آئے۔
سٹیٹ بنک آف پاکستان کی یہ تجویز تو ضرور ہے کہ کرپٹو پر پابندی لگائی جائے مگر اس کا اختیار سٹیٹ بینک کے پاس نہیں ہے۔
سٹیٹ بینک اور کرپٹو کرنسی کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے ایک ڈاکیا کبھی بھی ای میل سسٹم کو پسند نہیں کرے گا کیونکہ اس سے ڈاک کا عمل ُمتاثر ہوگا چاہے ای میل ڈاک کی نسبت کتنی ہی فائدہ مند اور موثر کیوں نہ ہو۔۔
یہاں یہ ذکر بھی کرتا چلوں کہ چئیرمین ٹیکنالوجی موومنٹ پاکستان وقار ذکاء نے تحریک انصاف کی کے پی کے حکومت کو ایشیا کی سب سے بڑی ہائیڈرو پاور یعنی کہ پانی پر چلنے والی مائننگ مشین لگا کر دی جس پر دو کروڑ سے زائد لاگت آئی اور اس مائننگ مشین کی بدولت کے پی حکومت کو ماہانہ ستائیس لاکھ روپے ُمنافع ہو رہا تھا۔بد قسمتی سے ایف آئی اے بے جا ُمداخلت کے باعث اس مشین کو بند کرنا پڑا۔وقار ذکاء جس کو عمران خان کے احکامات پر کے پی کے میں صوبائی وزیر ضیاء اللہ بنگش کا ایڈوائزر مقرر کیا گیا تھا اور ضیاء اللہ بنگش کی سربراہی میں کرپٹو کمیٹی بنائی گئی تھی اس کو تحلیل کر دیا گیا۔
اس سارے معاملے میں تحریک انصاف نے وہی کردار ادا کیا جو روایتی سیاسی جماعتیں کیا کرتی ہیں۔اگر ضیاء اللہ بنگش کی سربراہی میں کرپٹو کمیٹی اپنا کام جاری رکھتی کے پی حکومت کی مالی مشکلات کافی حد تک کم ہو سکتی تھی۔ضرورت اس امر کی ہے کرپٹو کرنسی سمیت جتنے بھی جدید معاشی ذرائع ہیں ان کو بروئے کار لا کر ہی ہم اپنی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکتے ہیں ۔بقول اقبال
آئینِ نو سے ڈرنا طرزِ کہن پے َاڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

پچھلا پڑھیں

شخصیات میں گھری پاکستانی سیاست

اگلا پڑھیں

ہم ترکیہ کو ہر شعبے میں آگے لے کر جانا چاہتے ہیں،صدر ایردوان

تبصرہ شامل کریں