Turkiya-Logo-top

انطالیہ ڈپلومیسی فورم عالمی دانش اور ضمیر کا مشترکہ پلیٹ فارم بن گیا، رجب طیب ایردوان

انطالیہ ڈپلومیسی فورم ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا جہاں ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے خطاب میں بین الاقوامی نظام، سفارتکاری اور مستقبل کے چیلنجز پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فورم اب صرف سفارتی ملاقاتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی دانش، ضمیر اور امید کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں دنیا کے اہم مسائل پر سنجیدہ اور بامقصد گفتگو ہو رہی ہے۔


صدر ایردوان نے پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یاد دلایا کہ اس فورم کا آغاز پانچ سال قبل ایک واضح مقصد کے ساتھ کیا گیا تھا، جس کا ہدف ایک ایسا عالمی پلیٹ فارم قائم کرنا تھا جو سفارتکاری کی اصل روح کو سمجھ سکے۔ ان کے مطابق آج یہ مقصد بڑی حد تک حاصل ہو چکا ہے اور فورم دنیا کے مختلف خطوں کے رہنماؤں، ماہرین اور پالیسی سازوں کے درمیان ایک مضبوط رابطہ بن گیا ہے۔


انہوں نے کہا کہ ترکیہ اس فورم کو محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک ایسے ادارے کے طور پر دیکھتا ہے جہاں عالمی سمت، انسانی اقدار اور مستقبل کے ممکنہ راستوں پر سنجیدگی سے غور کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں سفارتکاری کی نوعیت بدل چکی ہے اور یہ صرف تنازعات کے حل تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ اس بات پر بھی مرکوز ہے کہ انسانیت کے مشترکہ مستقبل کو کن اصولوں کے تحت آگے بڑھایا جائے۔
صدر ایردوان نے اپنے خطاب میں عالمی حالات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ دنیا اس وقت ایک بڑے بحران سے گزر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف طاقت کے توازن کی تبدیلی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ گہرا بحران ہے جو عالمی سمت کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی نظام میں جاری تبدیلیوں کو صرف طاقت کی سیاست کے تناظر میں دیکھنا حقیقت کو مکمل طور پر بیان نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ دنیا میں نئے طاقتور کردار ابھر رہے ہیں اور عالمی مقابلہ شدت اختیار کر رہا ہے، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ عالمی نظام اپنی سمت کھو چکا ہے ان کے مطابق دنیا ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں فیصلے نہایت اہمیت کے حامل ہیں اور ان کے اثرات طویل المدتی ہوں گے۔


صدر ایردوان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ عالمی نظام، جسے قواعد پر مبنی نظام کہا جاتا ہے، اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب قواعد کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اکثر عالمی ادارے خاموش رہتے ہیں، جبکہ انسانی حقوق اور عالمی سلامتی کے تحفظ کے ذمہ دار ادارے بھی کئی مواقع پر غیر مؤثر دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال عالمی اعتماد کو متاثر کر رہی ہے اور اس سے عالمی سطح پر بے یقینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم جیسے پلیٹ فارمز کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ فورمز دنیا کے مختلف فریقین کو ایک جگہ اکٹھا کر کے مکالمے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس فورم کا مقصد صرف مسائل کی نشاندہی نہیں بلکہ ان کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی تلاش کرنا بھی ہے۔
صدر ایردوان نے امید ظاہر کی کہ “مستقبل کی نقشہ سازی، غیر یقینی صورتحال کا نظم و نسق” کے موضوع کے تحت ہونے والی تین روزہ گفتگو عالمی سطح پر مثبت اثرات مرتب کرے گی اور دنیا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دے گی۔ ان کے مطابق یہ فورم عالمی برادری کے لیے ایک ایسا موقع ہے جہاں وہ مل بیٹھ کر نہ صرف موجودہ مسائل کا جائزہ لے سکتی ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک واضح اور متفقہ راستہ بھی طے کر سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر دنیا کو درپیش مسائل کا مؤثر حل نکالنا ہے تو اس کے لیے باہمی احترام، مکالمہ اور مشترکہ ذمہ داری کے اصولوں کو اپنانا ہوگا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ترکیہ عالمی امن اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور ایسے فورمز کے ذریعے دنیا کو قریب لانے کی کوشش جاری رکھے گا۔

Read Previous

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان، ٹرمپ کا شکریہ

Leave a Reply