گزشتہ روز 30 اپریل 2026 کو ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں سیاسی سرگرمیاں اس وقت عروج پر پہنچیں جب یہ اعلان کیا گیا کہ مقامی وقت کے مطابق شام کے ساڑھے سات بجے ‘ایم-ایچ-پی’ (نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی/Milliyetçi Hareket Parti) کے سربراہ دیولت باہچیلی صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات کے لیے ایوانِ صدر پہنچیں گے۔ طے شدہ وقت پر صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے اہم ترین سیاسی اتحادی اور ایم ایچ پی کے سربراہ کا صدارتی کمپلیکس میں استقبال کیا۔ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس انتہائی اہم ملاقات نے ملک کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
دیولت باہچیلی: ‘کنگ میکر’ کا کردار
دیولت باہچیلی ترکیہ کی قوم پرست سیاست کا سب سے بڑا نام ہیں۔ اگرچہ ان کی جماعت ‘ایم-ایچ-پی’ ووٹوں کے لحاظ سے تیسری یا چوتھی بڑی جماعت رہی ہے، لیکن باہچیلی نے خود کو ایک ایسے "کنگ میکر” کے طور پر منوایا ہے جن کی حمایت کے بغیر صدر ایردوان کے لیے صدارتی نظام کو برقرار رکھنا اور پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنا مشکل ہو سکتا تھا۔ باہچیلی نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے انفرادی فائدے کے بجائے اتحاد کی بقا کو ترجیح دیتے ہیں، جس کی وجہ سے ایردوان ان پر غیر متزلزل بھروسہ کرتے ہیں۔ دیولت باہچیلی صرف ایک سیاسی اتحادی نہیں بلکہ ایردوان کے لیے ایک "نظریاتی کمپاس” کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ملاقات کے کلیدی نکات:
ذرائع کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس بیٹھک میں درج ذیل اہم معاملات زیرِ بحث لائے گئے:



- جمہور اتحاد (People’s Alliance) کی مضبوطی: جمہور اتحاد دراصل صدر ایردوان کی اَق پارٹی اور دیولت باہچیلی کی ایم-ایچ-پی سمیت ترکیہ کی کچھ دیگر سیاسی جماعتوں پر مشتمل سیاسی و پارلیمانی اتحاد ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کے استحکام کے لیے ان کا سیاسی اتحاد چٹان کی طرح مضبوط رہے اور مستقبل کے چیلنجز کا مل کر مقابلہ کیا جائے۔
- نیا آئین، ایک قومی ضرورت: ملاقات کا ایک اہم حصہ ترکیہ کے نئے آئین کی تیاری پر مشتمل تھا۔ صدر ایردوان طویل عرصے سے "فوجی دور کے آئین” کو تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں، جس پر باہچیلی نے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
- علاقائی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ: سرحد پار آپریشنز اور دہشت گرد تنظیموں (PKK/YPG) کے خلاف جاری کارروائیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور قومی سلامتی کے امور پر اتفاقِ رائے پایا گیا۔
- معاشی اصلاحات: مہنگائی کے خلاف جنگ اور حکومتی معاشی پروگرام کے ثمرات کو عوام تک پہنچانے کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے:
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ترکیہ کو داخلی سطح پر نئے آئین کی بحث اور خارجی سطح پر مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال کا سامنا ہے۔

ان کے مطابق، "ایردوان اور باہچیلی کا مل بیٹھنا اس بات کا اشارہ ہے کہ ترکیہ کی سیاست میں بڑے فیصلے ہونے والے ہیں۔ خاص طور پر کُرد مسئلے کے حل اور سیاسی اصلاحات کے حوالے سے دیولت باہچیلی کے حالیہ بیانات کے تناظر میں یہ ملاقات غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔”
خاموشی لیکن واضح پیغام:
اگرچہ ملاقات کے بعد کوئی باضابطہ پریس کانفرنس نہیں کی گئی، لیکن ایوانِ صدر سے جاری ہونے والی تصاویر میں دونوں رہنماؤں کے درمیان خوشگوار مصافحہ اور باہمی اعتماد واضح نظر آیا۔ یہ ملاقات ان افواہوں کا دم توڑنے کے لیے کافی ہے جو "جمہور اتحاد” میں دراڑیں پڑنے کی طرف اشارہ کر رہی تھیں۔
مستقبل کی سمت:
اس ملاقات کے اثرات آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ کی قانون سازی اور حکومت کی نئی پالیسیوں میں واضح طور پر نظر آئیں گے۔ انقرہ کے سیاسی کوریڈورز میں اب صرف ایک ہی سوال گونج رہا ہے: کیا ترکیہ ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہونے والا ہے؟
