turky-urdu-logo

ترکیہ میں سالانہ تقریبا 1 لاکھ موٹاپے کی سرجریاں ہوتی ہیں: ترک اوبیسٹی سرجری فاونڈیشن

ترکیہ میں موٹاپا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جہاں ہر تین میں سے ایک شخص موٹاپے کا شکار ہے۔ ترک اوبیسٹی سرجری فاؤنڈیشن کے چیئرمین، پروفیسر اوکتائے بانلی نے موٹاپے کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ ،ابتدائی اور ثانوی اسکولوں سے ہی صحت مند غذائی عادات اور جسمانی سرگرمیوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔
پروفیسر بانلی کے مطابق، موٹاپا نہ صرف مختلف بیماریوں جیسے ذیابیطس، نیند کی کمی، ہائی بلڈ پریشر، جوڑوں کے درد اور سماجی و نفسیاتی مسائل کو جنم دیتا ہے، بلکہ موٹے افراد کی زندگی کی اوسط مدت بھی 12 سے 13 سال کم ہو جاتی ہے۔
بانلی نے کہا کہ، مناسب طریقے سے کی گئی موٹاپے کی سرجری زندگی کو بچانے کے ساتھ ساتھ معیار زندگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ترکیہ میں سالانہ تقریبا 1 لاکھ موٹاپے کی سرجریاں ہو جاتی ہیں۔ہماری کوشش ہے کہ، یہ سرجریاں صرف مستند اسپتالوں میں تربیت یافتہ سرجنوں کے ذریعے کی جائیں، تاکہ ممکنہ پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔ وزارتِصحت اس معاملے میں ہم سے رابطے میں ہے اور ہم سرکاری قوانین و ضوابط کی تشکیل میں حصہ لے رہے ہیں، تاکہ صرف موزوں مریضوں کو سرجری کی اجازت دی جائے۔
پروفیسر بانلی نے وزارت صحت کو ایک سائنسی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی ہے، جو موٹاپے کی سرجریوں سے متعلق قوانین، مراکز کا معائنہ اور دیگر فیصلوں کی نگرانی کرے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ، یہ کمیٹی، اعضاء کی پیوندکاری کمیٹی کی طرز پر کام کرے گی، جس نے ترکیہ میں پیوندکاری کے عمل کو منظم بنایا ہے۔
بانلی کا کہنا ہے کہ، کمیٹی کے قیام سے سرجریوں کے معیار کو بہتر بنانے، مراکز کی رجسٹریشن اور اہل مریضوں کے انتخاب میں شفافیت آئے گی۔ وزارت صحت اب اس تجویز کے نفاذ اور ذمہ داریوں کی تقسیم کے حوالے سے کام کر رہی ہے۔

Read Previous

ترکیہ کے شہر، وان کی نسلی بلیوں کے تحفظ کا منصوبہ

Read Next

ترکیہ کی صدارتی قومی لائبریری نے پانچ سالوں میں 70 لاکھ افراد کی میزبانی کی

Leave a Reply