امریکی ریاست مشی گن سے ڈیموکریٹ امیدوار عبدال السید نے ریپبلکن حریف مائیک راجرز کو شکست دے کر امریکی سینیٹ کی رکنیت حاصل کر لی ہے۔ ان کی کامیابی کو امریکی سیاست میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بن گئے ہیں۔
مصری نژاد امریکی ڈاکٹر اور ترقی پسند سیاست دان عبدال السید کو انتخابی مہم کے دوران اسلاموفوبک حملوں اور سیاسی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی انتخابی مہم کے دوران متعدد بار عبدال السید کو تنقید کا نشانہ بنایا اور انھیں ’جہادی‘ تک قرار دیا۔
مشی گن میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ عبدال السید واحد سینیٹر ہوں گے جنھیں سینیٹ میں داخلے سے پہلے میٹل ڈیٹیکٹر سے گزرنا پڑے گا۔
عبدال السید کو صرف ریپبلکن حریف ہی نہیں بلکہ اپنی جماعت کے اندر سے بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈیموکریٹک پارٹی کی سینیٹ کی نامزدگی کے لیے اگست میں ہونے والے پرائمری انتخابات میں عبدال السید سے شکست کھانے والی ہیلی سٹیونز نے اپنی جماعت کے امیدوار کی حمایت کرنے کے بجائے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
تاہم ان تمام مخالفتوں کے باوجود عبدال السید کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
کامیابی کے بعد اپنے خطاب میں عبدال السید نے کہا کہ امریکہ کی عظمت اپنی خامیوں کو نظر انداز کرنے میں نہیں، بلکہ انھیں درست کرنے کی جرات رکھنے میں ہے
انھوں نے امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کو بیرونِ ملک جنگوں اور بمباری پر خرچ کرنے کے بجائے امریکی عوام کی فلاح و بہبود پر صرف کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اپنے ٹیکس ادا کرنا ہی اتنا مشکل ہو کہ آپ کو یہ جاننے کے لیے جدوجہد کرنا پڑے کہ آپ کا پیسہ آپ اور آپ کے بچوں پر خرچ ہو رہا ہے یا کسی دوسرے ملک میں لوگوں اور ان کے بچوں پر بم گرانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
عبدال السید کی انتخابی مہم میں امریکی خارجہ پالیسی، بیرونِ ملک جنگوں کی مخالفت، فلسطینیوں کے حقوق اور عوامی وسائل کو مقامی سطح پر خرچ کرنے کے مطالبات نمایاں رہے۔
