turky-urdu-logo

پاکستان، ازبکستان کے درمیان 1 ارب ڈالر کا تجارتی معاہدہ طے پاگیا

پاکستان اور ازبکستان نے دو طرفہ تجارت میں اضافے کے لیے ایک ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کر لیے۔

ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں پاکستان-ازبکستان بین الحکومتی کمیشن برائے تجارت-معیشت اور سائینٹیفک-ٹیکنیکل تعاون (آئی جی سی) کا آٹھواں اجلاس ہوا جہاں معاہدے پر دستخط ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے مصنوعات اور خدمات کے تبادلے کے فروغ کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

اجلاس میں مختلف شعبوں میں دو طرفہ معاشی تعاون بشمول تجارت، بینکنگ، صنعتوں اور پیداوار، سرمایہ کاری، ٹیکسٹائل انڈسٹری، توانائی، تیل اور قدرتی وسائل، ٹرانسپورٹ، مواصلات، زراعت، سیاحت اور ثقافت کے میدان میں تعاون پر توجہ دی ہے۔

وزارت اقتصادی امور نے بیان میں کہا کہ وزیرخزانہ اسحٰق ڈار کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے تجارتی معاہدوں پر دستخط کیا، جس میں تجارت، بینکنگ، صنعت، توانائی اور زراعت کا شعبہ شامل تھا۔

اجلاس کی صدارت وزیرخزانہ اسحٰق ڈار اور ازبکستان کے وزیر سرمایہ کاری، صنعت اور تجارت لذیذ قدرتوف نے مشترکہ طور پر کی۔

بیان میں کہا گیا کہ ازبکستان کی طرف سے دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کے فروغ کے لیے مسلسل کوششوں، خاص طور پر تجارت، ٹرانسپورٹ، بینکنگ اور زراعت کے شعبوں میں بہتری کو سراہا گیا۔

اجلاس کے حوالے سے مزید کہا گیا کہ ’آئی جی سی کا سب سے اہم نتیجہ ایک ارب ڈالر کے تجارتی معاہدے پر دستخط ہیں، جس سے مصنوعات کے تبادلے اور مخصوص خدمات کے تبادلے کو فروغ ملے گا اور تجارت کا عمل بھی آسان ہوجائے گا‘۔

بیان کے مطابق اسحٰق ڈار نے ازبک حکام کی جانب سے اس معاملے پر گہری دلچسپی لینے اور تعلقات مضبوط بنانے کو سراہا، ٹرانسپورٹ اور تجارت کے میدان میں پہلے بہتری کو سراہا۔

انہوں نے ازبک عہدیداروں کو آٹوموبائلز، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور قدرتی معدنیات کے شعبے میں مواقع تلاش کرنے کے لیے خوش آمدید کہا۔

دونوں فریقین نے سرمایہ کاری تعاون اور دو طرفہ تجارت کے وسیع مواقع پر زور دیا، مزید برآں آئی جی سی نے ٹیکنالوجی، جدت اور معاشی شراکت داری کے ذریعے پائیدار ترقی کے لیے قریبی تعاون کی اہمیت کا اعتراف بھی کیا۔

 

Alkhidmat

Read Previous

فلم فیسٹول کانز 2023 میں پاکستان کی دو فلمیں ’پہچان‘ اور ’نور‘ منتخب

Read Next

ترکیہ کے وسطی صوبے نگدے میں 5.3 شدت زلزلے کے جھٹکے

Leave a Reply