Turkiya-Logo-top

کافر کوٹ کے مندر

ڈاکٹر عظیم شاہ بخاری

کافر کوٹ کا علاقہ موجودہ ضلع پہاڑ پور (جو حال ہی میں ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان کو کاٹ کے بنایا گیا ہے) کے شمال مشرقی سِرے پر چشمہ جھیل کے کنارے پر واقع ہے جو تل کوٹ اور بل کوٹ کا مجموعہ ہے۔ ہم جس علاقہ میں گئے وہ بنیادی طور پہ یہ کافر کوٹ شمالی (تل کوت یا تلوٹ) تھا جہاں اس وقت ایک قلعے، چار منادر اور ایک سٹوپے کے آثار واقع ہیں جبکہ کافر کوٹ جنوبی بلوٹ شریف کے پاس واقع ہے۔

دریائے سندھ اور کُرم کے سنگم کے قریب واقع یہ سارا علاقہ ہمیشہ سے حملہ آوروں اور قبضہ گیروں کا پسندیدہ رہا ہے کہ یہاں دریا کے ساتھ سفر کرنا آسان ہوتا تھا۔ تل کوٹ اسی علاقے کا ایک اہم مقام ہے۔ یہاں تل کوٹ کے شمال میں ایک اور اہم جگہ ہے جسے کُنڈل کہتے ہیں، تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ اسی جگہ رگ وید کے چھ ہزار اشلوک لکھے گئے تھے۔

اس علاقے میں صدیوں پہلے راجہ بل حکومت کرتا تھا جس کا پائہ تخت بلوٹ (یا بل کوٹ) تھا۔ بَل کا چھوٹا بھائی تَل، تَلوٹ (تل کوٹ) نامی شہر کا بانی تھا جبکہ تیسرے بھائی اکلوٹ نے اکرہ شہر کی بنیاد رکھی جو پھر غزنوی کے ہاتھوں تباہ ہوا۔

جبکہ کافر کوٹ نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ کوہِ خیسور و نمک کا بیشتر علاقہ ہندو دھرم کا ماننے والا تھا سو یہاں مندر و سمادھیوں کی بہتات تھی۔ غزنوی کے ساتھ آنے والے مسلمان حملہ آور فاتحین نے اسی وجہ سے اسے کافروں کا علاقہ یا کافر کوٹ کا نام دے دیا جبکہ ہندو اسے راجہ بل کا قلعہ کہتے تھے۔

کسی زمانے میں دریائے سندھ کافر کوٹ کے پہاڑوں کے نیچے بہتا تھا۔ ماضی میں وسط ایشیا و افغانستان کو برصغیر سے ملانے والی شاہراہ اس علاقے سے ہو کر گزرتی تھی ۔ کافر کوٹ کے کھنڈرات کو نوکیلے تراشے ہوئے پتھروں اور خاردار جھاڑیوں نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ پہاڑوں کی چوٹی پر ہونے کی وجہ سے یہ آثار قدیمہ ابھی تک کافی حد تک محفوظ ہیں ۔

یہ شہر 62 ایکڑ میں بسایا گیا تھا جس کے کچھ مندر آج بھی ایک پہاڑی پر موجود ہیں۔ یہ یقیناً قلعے کے اندر بنائے گئے ہوں گے کیونکہ پرانے قلعے کی فصیل ان کے باہر آج بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

یہ مندر کوہِ نمک کے دیگر مندروں سے مشابہت رکھتے ہیں جن میں امب شریف، کٹاس، ماڑی و ملوٹ کے مندر شامل ہیں۔ ان سب منادر کو ہندو شاہی دور کی تعمیر لکھا گیا ہے تبھی ان کا بنیادی طرزِ تعمیر ایک جیسا ہے۔ جنرل کننگھم نے بھی انہیں کوہِ نمک کے منادر کا ہم عصر لکھا ہے۔

ان مندروں کے بارے کہا جاتا ہے کہ انہیں راجہ بل نے تعمیر کروایا تھا۔ سلطان محمود غزنوی نے اپنے دسویں حملے میں راجہ نند پال کو شکست دی تھی سو قیاس ہے کہ کافر کوٹ کا قلعہ اور مندر بھی سلطان محمود غزنوی کے ہاتھوں برباد ہوئے۔

مجھے یہاں چار مندر نظر آئے۔ دو ایک ساتھ تھے یعنی بڑا اور چھوٹا مندر، پھر ایک ٹوٹا ہوا سٹوپہ تھا جس کے سامنے اونچائی پر ایک اور مندر تھا۔

اس سے آگے اوٹ میں ایک چبوترے پر سب سے بڑا مندر ہے جس کے سامنے ٹوٹی ہوئی عمارت کے کھنڈرات تھے۔ ہو سکتا ہے یہ بھی مندر ہو لیکن اس حالت میں دیکھ کے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ سب مندروں کا ایک جیسا ڈیزائن ہے بس محرابی دروازوں اور پہلو میں بنے پتھر کے چوکھٹوں کا سائز مختلف ہے۔ میں دبائے ہم اگلی منزل کو چل دیئے۔

Read Previous

‘گمراہ کن بیانیے سے بچنے کے لیے ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا’، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا لاہور کی جامعات کا دورہ۔۔۔۔۔۔۔

Read Next

مکہ دفاعی اتحاد کے بعد پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں، سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو

Leave a Reply