Turkiya-Logo-top

راولاکوٹ میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، کالعدم ایکشن کمیٹی اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم

راولاکوٹ: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں جمعرات کی علی الصبح سکیورٹی فورسز نے آپریشن کرتے ہوئے بس ٹرمینل کے قریب واقع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے جہاں گزشتہ پانچ ماہ سے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دے رکھا تھا۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان تقریباً دو گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں پولیس اہلکاروں اور مظاہرین کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ابتدائی اطلاعات میں سکیورٹی فورسز کے کسی اہلکار کے زخمی نہ ہونے کی بات سامنے آئی تھی، تاہم بعد ازاں پونچھ ڈویژن پولیس نے تصدیق کی کہ جھڑپوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بعض اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

پونچھ ڈویژن پولیس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ راولاکوٹ بس ٹرمینل کے قریب عوامی راستوں پر قائم غیر قانونی رکاوٹیں ہٹانے اور شہریوں کی آمدورفت بحال کرنے کے لیے کارروائی کی گئی۔ پولیس کے مطابق مظاہرین میں شامل بعض مسلح افراد نے اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جوابی کارروائی کرنا پڑی۔

پولیس نے دعویٰ کیا کہ فائرنگ کے تبادلے میں مظاہرین میں موجود بعض مبینہ مسلح افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ تاہم زخمی مظاہرین کی درست تعداد اور ان کی حالت سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

پولیس نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ راولاکوٹ میں گزشتہ پانچ ماہ سے جاری احتجاج کے باعث عوامی راستوں اور معمولاتِ زندگی میں مشکلات پیدا ہو رہی تھیں۔ پولیس کے مطابق اس دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے خلاف اشتعال انگیزی اور نفرت انگیز مہم بھی چلائی جاتی رہی۔

حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے اور علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ پولیس نے سوشل میڈیا پر واقعے سے متعلق گردش کرنے والی بعض اطلاعات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حقائق کے برعکس افواہیں پھیلانے سے عوام میں خوف و ہراس پیدا ہو سکتا ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

واضح رہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکن گزشتہ پانچ ماہ سے اپنے مطالبات کے حق میں بس ٹرمینل کے قریب دھرنا دیے ہوئے تھے۔ اس احتجاج کے باعث راولپنڈی سے راولاکوٹ آنے والی مرکزی شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بھی متاثر رہی اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

راولاکوٹ میں یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حالیہ دنوں میں شہر میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر گئی تھی۔ سی ایم ایچ کے باہر پیش آنے والی فائرنگ کے ایک واقعے میں پولیس اہلکاروں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان واقعات کے بعد علاقے میں سکیورٹی صورتحال اور عوامی احتجاج پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

Read Previous

امریکہ کی سینیٹ میں پہلی بار مسلمان رکن منتخب عبدال السید نے تاریخ رقم کر دی

Leave a Reply