اسرائیل کی مرکزی اپوزیشن جماعت کے رہنما یائر گولان نے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں پر عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر نئی حکومت تشکیل دینے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں سیاسی تبدیلی کے لیے عرب شہریوں کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔
یائر گولان نے کہا کہ یہودی اور عرب ووٹوں کے درمیان نسلی بنیادوں پر تقسیم کو مزید قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس تبدیلی کی حکومت بنانے کا موقع موجود ہے اور اس مقصد کے لیے اسرائیل کے عرب شہریوں کے ساتھ شراکت داری اختیار کرنے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
اسرائیلی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق، 72.4 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک وزیراعظم نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ میں 54 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا، جو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں سے سات کم ہیں۔

دوسری جانب گادی آئزین کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں، جبکہ عرب جماعتوں کو مجموعی طور پر 18 نشستیں ملنے کا تخمینہ لگایا گیا۔ ان اعداد و شمار کے مطابق اپوزیشن اتحاد اور عرب جماعتوں کی ممکنہ مشترکہ نشستیں 66 بنتی ہیں، جو پارلیمانی اکثریت کے لیے کافی ہو سکتی ہیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
ابتدائی تخمینوں میں عرب جماعتوں کے مشترکہ اتحاد کو 12 نشستیں اور یونائیٹڈ عرب لسٹ (رعام) کو چار نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔ تاہم، ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک نتائج میں تبدیلی ممکن ہے اور حکومت سازی کا حتمی منظرنامہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات اور اتحاد پر منحصر ہوگا۔
