شام میں صدر احمد الشرع کی حکومت نے اسکولوں کی تاریخ کی کتابوں میں اہم تبدیلیاں کی ہیں، جن کے تحت سلطنتِ عثمانیہ کے بارے میں منفی الفاظ اور بعض تاریخی شخصیات کے لیے استعمال ہونے والے القابات حذف کر دیے گئے ہیں۔
نئے نصاب میں 1916 کی عرب بغاوت کو ’عظیم عرب انقلاب‘ کہنے کے بجائے شریف حسین بن علی کی بغاوت قرار دیا گیا ہے، جبکہ عثمانی فوجی کمانڈر جمال پاشا کے لیے استعمال ہونے والا لقب ’عربوں کا قصائی‘ بھی ہٹا دیا گیا ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
یہ تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب شام کی نئی حکومت اور ترکیہ کے درمیان سیاسی اور سفارتی تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔
تعلیمی نصاب کا جائزہ لینے والے ادارے ’امپیکٹ ایس ای’ نے 19 اکتوبر کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں ان تبدیلیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ادارے نے تعلیمی سال 2025-26 کی 130 درسی کتابوں کا جائزہ لیا اور ان کا موازنہ سابق صدر بشار الاسد کے دور میں 2017-18 کے دوران شائع ہونے والی کتابوں سے کیا۔
عرب بغاوت کی تاریخ میں کیا تبدیلی کی گئی؟
شام میں بارہویں جماعت کی تاریخ کی پرانی کتاب میں 1916 سے 1918 کے دوران سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف ہونے والی بغاوت کو ’عظیم عرب انقلاب‘ کہا جاتا تھا۔
اس بغاوت کی قیادت شریف حسین بن علی نے کی تھی اور پرانے نصاب میں اسے عرب علاقوں کو عثمانی اقتدار سے آزاد کرانے کی تحریک کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ تاہم نئی کتاب میں اسے ’حسین بن علی کی بغاوت‘ کا نام دیا گیا ہے۔
پرانے نصاب میں اس تحریک کا مقصد عرب علاقوں کو عثمانی قبضے اور ترک حکمرانوں سے آزاد کرانا بتایا گیا تھا، جبکہ نئی کتاب میں لکھا گیا ہے کہ اس بغاوت کا مقصد عرب علاقوں کو سلطنتِ عثمانیہ سے الگ کرنا تھا۔
نئے نصاب میں پہلی عالمی جنگ کے دوران شریف حسین کے برطانیہ اور دیگر اتحادی طاقتوں کے ساتھ تعاون کو بھی زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔
اسی طرح نومبر 1918 کے برطانوی اور فرانسیسی اعلامیے کی وضاحت بھی تبدیل کی گئی ہے۔
پہلے اس اعلامیے کو ترکوں کی مبینہ ناانصافیوں سے عوام کو نجات دلانے کی کوشش قرار دیا جاتا تھا، جبکہ اب اسے خطے سے عثمانی افواج کو نکالنے اور قومی حکومتیں قائم کرنے کے منصوبے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
جمال پاشا کو اب ’عربوں کا قصائی‘ نہیں کہا جائے گا
نئے نصاب میں ایک اور اہم تبدیلی عثمانی فوجی کمانڈر احمد جمال پاشا سے متعلق کی گئی ہے۔پہلی عالمی جنگ کے دوران شام اور لبنان میں تعینات جمال پاشا کے حکم پر چھ مئی 1916 کو دمشق اور بیروت میں متعدد عرب شخصیات کو پھانسی دی گئی تھی۔
شام کی پرانی درسی کتابوں میں جمال پاشا کو ان واقعات کی وجہ سے ’عربوں کا قصائی‘ کہا جاتا تھا۔تاہم نئے نصاب میں یہ لقب حذف کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ جن عرب شخصیات کو پھانسی دی گئی تھی، انہیں پہلے عرب قومیت اور حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے افراد کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔
نئی کتاب میں ان میں سے بعض افراد کو ایسے سازشی عناصر قرار دیا گیا ہے جو برطانیہ اور فرانس کے ساتھ تعاون کر رہے تھے۔
البتہ پھانسیوں کے واقعات کو تاریخ کی کتابوں سے مکمل طور پر نہیں نکالا گیا، بلکہ ان کی وجوہات اور تاریخی پس منظر کی وضاحت تبدیل کی گئی ہے۔
’عثمانی قبضے‘ کے بجائے ’عثمانی حکومت‘
یہ تبدیلیاں شام کی وزارتِ تعلیم کی جانب سے جنوری 2025 میں جاری کی گئی ہدایات کے بعد کی گئی ہیں۔ان ہدایات میں کہا گیا تھا کہ تاریخ کی کتابوں میں ’عثمانی قبضے‘ جیسے الفاظ کی جگہ ’عثمانی حکومت‘ یا ’عثمانی انتظامیہ‘ کی اصطلاحات استعمال کی جائیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
نئے نصاب میں سلطنتِ عثمانیہ کی سیاسی اور اسلامی شناخت کو بھی زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق وزارتِ تعلیم کی بیشتر ہدایات کو تعلیمی سال 2025-26 کی کتابوں میں شامل کر لیا گیا ہے، تاہم تمام کتابوں میں یکساں تبدیلیاں نہیں کی گئیں۔
زیادہ تر پرانا تعلیمی مواد برقرار رکھا گیا ہے اور صرف مخصوص تاریخی واقعات کی وضاحت اور ان کے لیے استعمال ہونے والی زبان میں ردوبدل کیا گیا ہے۔
