پاکستانی فیشن ڈیزائنر پریشے عدنان نے نیویارک فیشن ویک میں اپنی کلیکشن ’سیکنڈ اسکن‘ پیش کرکے پاکستانی ہنرمندی اور روایتی دستکاری کو عالمی فیشن کے بڑے اسٹیج تک پہنچا دیا۔ پریشے نے فلائنگ سولو کے شو کا اختتام اپنی کلیکشن سے کیا، جس کی خاص بات یہ تھی کہ نئے کپڑے استعمال کرنے کے بجائے برسوں پرانے ملبوسات، بچ جانے والے کپڑے اور اپنے فیشن ہاؤس کے آرکائیوز میں محفوظ مختلف اشیا کو نئے انداز میں ڈھالا گیا۔

’سیکنڈ اسکن‘ میں پرانے مردانہ ملبوسات، فروخت نہ ہونے والے کپڑوں اور عروسی ملبوسات کو کھول کر خواتین کے لیے بالکل نئی شکل دی گئی۔ اس کلیکشن کے ذریعے پریشے عدنان نے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ برسوں سے الماریوں اور گوداموں میں موجود قیمتی کپڑوں اور پاکستانی دستکاری کو ضائع کرنے کے بجائے جدید فیشن کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

کلیکشن کا ایک نمایاں لباس ’مائی فادرز ٹائی‘ تھا، جس کے پیچھے ایک ذاتی اور جذباتی کہانی بھی موجود ہے۔ اس لباس میں پریشے نے اپنے والد اور معروف پاکستانی فیشن ڈیزائنر امیر عدنان کی وہ خام ریشم کی ٹائی استعمال کی جس پر انہوں نے 2001 میں ہاتھ سے کڑھائی کی تھی۔ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد اسی ٹائی کو ایک منفرد جیکٹ کا حصہ بنا کر ماضی کی یاد کو جدید فیشن سے جوڑ دیا گیا۔

پریشے عدنان نے ایک پرانے عروسی لہنگے کو بھی نئی شکل دیتے ہوئے اس سے اسٹرکچرڈ بسٹیئر اور 16 انچ کی منی اسکرٹ تیار کی۔ اسی طرح تقریباً 15 برس تک فروخت نہ ہونے والی ایک شیروانی کو مختصر سوئیڈ جیکٹ میں تبدیل کیا گیا۔ اس جیکٹ کے صرف کالر اور بیلٹ پر ہاتھ سے کام مکمل کرنے میں تقریباً 200 گھنٹے لگے، جو پاکستانی کاریگروں کی باریک اور محنت طلب دستکاری کی عکاسی کرتا ہے۔

کلیکشن میں نیوی کارسیٹ گاؤن، اسٹیل اسکرٹ اور موتیوں سے مزین روز گولڈ ٹو پیس سمیت کئی منفرد ملبوسات بھی شامل تھے۔ شو کے آخری لباس کے لیے دسمبر 2024 میں رن وے پر پیش کیے گئے ایک پیشوا کو مکمل طور پر کھول دیا گیا اور اس پر موجود سیاہ مخمل کی کڑھائی کو محفوظ کرکے ایک طویل مغربی طرز کے کوٹ کا حصہ بنایا گیا۔

نیویارک میں ہونے والے اس شو کو دیکھنے کے لیے پاکستانی گلوکارہ عروج آفتاب سمیت صوفی اور انیکا ذوالفقار بھی موجود تھیں۔ پریشے عدنان کی ’سیکنڈ اسکن‘ کلیکشن کی نمایاں بات صرف پرانے ملبوسات کو نئی شکل دینا نہیں بلکہ پاکستانی کاریگروں کے گھنٹوں پر محیط ہاتھ کے کام کو نیویارک فیشن ویک کے عالمی اسٹیج تک پہنچانا بھی تھی۔ یوں برسوں پرانے پاکستانی ملبوسات اور روایتی کڑھائی ایک نئی شناخت کے ساتھ عالمی فیشن رن وے کا حصہ بن گئے۔
