برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی حکام نے عمان کے دارالحکومت مسقط میں یمن کے حوثی نمائندوں سے ایک غیر اعلانیہ ملاقات کی، جس کے انتظام میں عمانی حکومت نے بھی کردار ادا کیا۔ یہ رابطہ ایسے وقت ہوا جب حوثیوں نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل، مخا بندرگاہ اور باب المندب میں واقع پریم جزیرے پر اپنا کنٹرول بڑھایا ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
ذرائع کے مطابق حوثی نمائندوں نے امریکی حکام کو بتایا کہ وہ امریکی جہازوں کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں رکھتے اور امریکا کے ساتھ 2025 کی جنگ بندی پر قائم ہیں۔ ایک ذریعے کے مطابق حوثیوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب سے منسلک جہازوں کے علاوہ وہ دیگر تجارتی یا اسرائیلی جہازوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اس مخصوص ملاقات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا، تاہم کہا کہ بحیرہ احمر میں آزاد جہاز رانی کا تحفظ اور مشرق وسطیٰ سے دہشت گردی کے پھیلاؤ کو روکنا واشنگٹن کے بنیادی مفادات میں شامل ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
واضح رہے کہ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں یمن کے پورے بحیرہ احمر کے ساحل، مخا اور پریم جزیرے پر مؤثر کنٹرول حاصل کیا ہے، جبکہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے حوثیوں کی پیش قدمی کے تناظر میں امریکی فوجی مدد بھی طلب کی تھی۔
