سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا عبوری حکم جاری کرتے ہوئے تمام میڈیکل ریکارڈ طلب کرلیا ہے
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کے علاج سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران عدالت نے ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی کو سخت سیکیورٹی انتظامات کے تحت شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، تاہم اسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
سپریم کورٹ نے شفا انٹرنیشنل اسپتال کو بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے ڈاکٹرز کا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت کے حکم کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ان کے ذاتی معالج بھی طبی عمل میں موجود ہوں گے اور آئندہ سماعت تک بانی پی ٹی آئی اسپتال میں رہیں گے۔
سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے طبی ریکارڈ سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھائے گئے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
جسٹس شاہد وحید نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا مکمل میڈیکل ریکارڈ فراہم کرنے میں کیا مسئلہ ہے
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ عدالت کو جو مواد فراہم کیا گیا ہے وہ مکمل میڈیکل ریکارڈ نہیں بلکہ صرف میڈیکل رپورٹ کی سمری ہے
سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے سوال کیا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کی انجیوگرافی کرانی ہے تو کیا یہ جیل میں ممکن ہے؟
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ انجیوگرافی جیل سے باہر اسپتال میں کی جاسکتی ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
جسٹس شاہد وحید نے طبی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق بھی ریمارکس دیے۔
بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے ملاقاتوں کا معاملہ بھی سماعت کے دوران زیر بحث آیا۔
جسٹس شاہد وحید نے سوال کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے ملاقات کے حوالے سے کیا صورتحال ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ملاقات نہیں ہوگی۔
اس پر جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے ملاقات کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہے۔
عدالت نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات پر عمل کیوں نہیں کیا جارہا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ تین سال کے دوران بانی پی ٹی آئی سے ان کی بہنوں کی 48 ملاقاتیں کرائی گئی ہیں۔
سپریم کورٹ نے ان ملاقاتوں سے متعلق مکمل ریکارڈ طلب کرلیا۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے ہونے والی ملاقاتوں اور ان کے بچوں سے بات کروانے کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو ہفتے میں ایک دن اہلخانہ سے ملاقات کی اجازت دینے کا حکم دیا ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کو بانی پی ٹی آئی کے علاج کے معاملے پر سیاست کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے علاج، ملاقاتوں اور طبی ریکارڈ سے متعلق مزید تفصیلات طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کردی
