Turkiya-Logo-top

بوسنیا کی تاریخی وراثت محفوظ کرنے کیلئے ٹکا کا بڑا اقدام، علی عزت بیگووچ میوزیم کی بحالی مکمل

ترک تعاون و رابطہ ایجنسی ٹکا کی جانب سے وسیع بحالی اور جدید نمائش کے منصوبے کے بعد بوسنیا و ہرزیگووینا کے دارالحکومت سراجیوو میں قائم علی عزت بیگووچ میوزیم دوبارہ زائرین کے لیے کھولنے کی تیاری کر رہا ہے۔

یہ میوزیم بوسنیا و ہرزیگووینا کے پہلے صدر، مفکر اور مصنف علی عزت بیگووچ کی سیاسی، فکری اور تاریخی میراث کو محفوظ رکھنے کے لیے 2007 میں قائم کیا گیا تھا۔ میوزیم عثمانی دور کے پلوچا اور شیروکاتش گیٹ ٹاورز میں واقع ہے جو ملک کی اہم تاریخی یادگاروں میں شمار ہوتے ہیں

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

بحالی کا کام دو بڑے مراحل میں مکمل کیا گیا پہلے مرحلے میں تاریخی عمارتوں کی اصل ساخت اور معماری خصوصیات کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا گیا۔

چھتوں، دفاعی دیواروں اور سیڑھیوں سمیت مختلف حصوں کی مرمت کی گئی، جس کا مقصد سراجیوو کے تاریخی وراتنک قلعہ بندی نظام کو محفوظ رکھنا تھا۔ یہ دفاعی نظام ماضی میں شہر کے مشرقی حصے کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

پلوچا اور شیروکاتش ٹاورز 1727 سے 1739 کے درمیان بوسنیا کے گورنر احمد پاشا روستم پاشیچ اسکوپلیاک کے دور میں تعمیر کیے گئے تھے۔ یہ ٹاورز عثمانی دور کے بلقان میں قائم دفاعی نظام کی اہم مثالوں میں شامل ہیں

منصوبے کے دوسرے مرحلے میں میوزیم کے اندر موجود نمائش کو جدید انداز میں ترتیب دیا گیا ہے۔ نئی گیلریوں میں تاریخی تصاویر، کینوس پرنٹس، گرافکس، ڈسپلے کیسز، ایل ای ڈی اسکرینز اور ڈیجیٹل آڈیو ویژول مواد شامل کیا گیا ہے۔

نمائش میں علی عزت بیگووچ کی زندگی اور بوسنیا و ہرزیگووینا کی تاریخ کو زمانی اور موضوعاتی ترتیب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے تاکہ زائرین مختلف تاریخی ادوار کو زیادہ واضح انداز میں سمجھ سکیں۔

پلوچا گیٹ ٹاور میں عزت بیگووچ کے بچپن، جوانی، خاندانی زندگی اور فکری تشکیل سے متعلق مواد پیش کیا گیا ہے۔ اسی حصے میں ان کے مقدمے، قید کے دور اور جیل میں لکھی گئی تحریروں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

دوسری جانب شیروکاتش گیٹ ٹاور میں بوسنیا و ہرزیگووینا کی آزادی، عزت بیگووچ کے سیاسی سفر، ان کے صدارتی دور، جنگ کے دوران قیادت اور بین الاقوامی سیاسی کردار کو جدید اور انٹرایکٹو انداز میں پیش کیا گیا ہے

علی عزت بیگووچ آزاد بوسنیا و ہرزیگووینا کے پہلے صدر اور ملک کی آزادی کی تحریک کی نمایاں شخصیات میں شامل تھے۔ سیاست دان، مفکر اور مصنف کی حیثیت سے انہوں نے 1992 سے 1995 کی جنگ کے دوران بوسنیا کی قیادت کی۔

ٹکا کے صدر عبداللہ ایرن نے میوزیم کی بحالی کو عزت بیگووچ کی زندگی اور بوسنیا کی آزادی کی جدوجہد کو نئی نسل تک منتقل کرنے کی اہم کوشش قرار دیا۔

ان کے مطابق میوزیم کی نئی نمائش نہ صرف عزت بیگووچ کی زندگی اور سیاسی جدوجہد کو اجاگر کرے گی بلکہ بوسنیا و ہرزیگووینا کی آزادی کی تاریخ کو بھی زیادہ مؤثر انداز میں محفوظ کرے گی

میوزیم کے موجودہ مقام کی اپنی ایک منفرد تاریخی اہمیت ہے۔ عثمانی دور میں یہ ٹاورز سراجیوو کے دفاعی نظام کا حصہ تھے، جبکہ بعد کے دور میں یہی مقام علی عزت بیگووچ کی سیاسی جدوجہد اور بوسنیا کی آزادی کی یاد سے منسلک ہوگیا۔

میوزیم کے پہلے ڈائریکٹر اور بانیوں میں شامل ایلوس کونڈزیچ کے مطابق مختلف ادوار سے تعلق رکھنے کے باوجود ٹاورز اور عزت بیگووچ دونوں دفاع اور آزادی کے تصور سے جڑے ہوئے ہیں۔

نئے سرے سے بحال کیا گیا علی عزت بیگووچ میوزیم تاریخی عمارت کی اصل شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تاریخ، ثقافتی ورثے اور اجتماعی یادداشت کے تعلق کو نمایاں کرے گا۔

Read Previous

مکہ دفاعی اتحاد میں مصر کی شمولیت کا امکان، حاقان فیدان کا اہم بیان

Read Next

استنبول میں 400 سال پرانا عثمانی ساز سازی کا فن آج بھی زندہ

Leave a Reply