شدید بھوک، رہائش کی کمی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے اسپین کے زیرِ انتظام علاقے سیوٹا پہنچنے والے ہزاروں مراکشی تارکین وطن کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپ جانے والے متعدد افراد اب مایوسی کے عالم میں واپس مراکش لوٹ رہے ہیں
اسپین کی وزارتِ داخلہ کے مطابق جمعہ کو تقریباً 48 ہزار 300 افراد رضاکارانہ طور پر مراکش واپس جا چکے تھے جبکہ سیوٹا کی علاقائی حکومت کے سربراہ کے مطابق حالیہ دنوں میں تقریباً 60 ہزار افراد غیر قانونی طور پر اس علاقے میں داخل ہوئے
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
مراکش کے شمال مغربی شہر لاراش سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ ایوب نے انادولو ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ جمعرات کو سیوٹا پہنچے تھے لیکن صرف ایک رات وہاں گزارنے کے بعد واپس وطن آنے کا فیصلہ کر لیا۔
ایوب کے مطابق سرحد پار کرتے وقت انہیں امید تھی کہ یورپ میں بہتر زندگی اور بنیادی سہولیات میسر آئیں گی مگر سیوٹا پہنچنے پر حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں افراد کی آمد کے باعث دکانیں بند تھیں، خوراک دستیاب نہیں تھی اور رہنے کے لیے محفوظ جگہ بھی موجود نہیں تھی۔

انہوں نے کہا سب سے مشکل بات یہ تھی کہ بنیادی ضروریات بھی دستیاب نہیں تھیں۔ مجھے روٹی کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ملا، اس لیے میں نے واپس اپنے ملک آنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے وطن میں روٹی کھانا اور اللہ کا شکر ادا کرنا ہی بہتر ہے
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
ایوب کا کہنا تھا کہ یہ تجربہ ان کے لیے اور یورپ ہجرت کا خواب دیکھنے والے دیگر افراد کے لیے ایک اہم سبق ہے کیونکہ سیوٹا کے حالات ان کے تصور سے کہیں زیادہ خراب نکلے
مراکش کے قصبے مولائے بوسلہام سے تعلق رکھنے والے عثمان عسو نے بھی انادولو ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے دس دوستوں کے ساتھ سیوٹا پہنچے تھے لیکن وہاں کے حالات دیکھ کر سب نے واپس آنے کا فیصلہ کیا۔
عثمان، جو مراکش میں زرعی مزدور ہیں نے بتایا کہ وہ روزانہ تقریباً 100 مراکشی درہم (تقریباً 10 امریکی ڈالر) کماتے ہیں جس سے گزر بسر کرنا انتہائی مشکل ہو گیا تھا اسی لیے انہوں نے یورپ جانے کا فیصلہ کیا
انہوں نے کہا روزانہ 100 درہم میں گزارا ممکن نہیں، اسی لیے میں نے ہجرت کا سوچا تھا
عثمان کے مطابق سیوٹا پہنچنے کے بعد صورتحال توقعات سے کہیں زیادہ خراب تھی۔ دکانیں بند تھیں، کھانے پینے کی اشیا دستیاب نہیں تھیں اور بنیادی ضروریات حاصل کرنا بھی ممکن نہیں تھا جس کے باعث وہ اور ان کے ساتھی واپس مراکش آ گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ اب بھی سیوٹا میں موجود ہیں وہ انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ نہ ان کے پاس رہائش ہے اور نہ ہی انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی واضح امید نظر آتی ہے
دوسری جانب مراکش کے سرحدی شہر فنیڈق میں گزشتہ کئی دنوں سے تارکین وطن کی جانب سے سیوٹا میں داخل ہونے کی کوششیں جاری ہیں
رپورٹس کے مطابق مراکشی سیکیورٹی فورسز نے سرحد پر نفری میں اضافہ کر دیا ہے اور بڑی تعداد میں افراد کو سرحدی باڑ تک پہنچنے سے روکا جا رہا ہے۔
بعض مقامات پر سیکیورٹی اہلکاروں اور سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے گروپوں کے درمیان کشیدگی بھی دیکھی گئی جبکہ کچھ افراد نے سرحدی علاقے کے قریب گاڑیوں کو آگ لگا دی جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پا لیا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
حکام نے فنیڈق اور گرد و نواح میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے تاہم حالیہ پیش رفت پر ابھی تک کوئی تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
اسپین کے حکام کے مطابق سرحد کے ہسپانوی حصے سے اب تک 57 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں جبکہ مزید لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بعض افراد سیوٹا تک تیر کر پہنچنے کی کوشش میں ڈوب گئے جبکہ کچھ افراد سرحدی باڑ کے قریب بھگدڑ کے دوران جان کی بازی ہار گئے۔
سیوٹا اور میلیلہ شمالی افریقہ میں مراکش کے ساحل پر واقع اسپین کے خودمختار علاقے ہیں۔ یہ دونوں علاقے یورپی یونین اور افریقی براعظم کے درمیان واحد زمینی سرحدیں ہیں اسی وجہ سے بہتر معاشی مواقع کی تلاش میں ہر سال ہزاروں افراد ان راستوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم حالیہ بحران نے ایک مرتبہ پھر غیر قانونی ہجرت کے خطرات اور انسانی مسائل کو نمایاں کر دیا ہے۔
