حالات و واقعات کی اثر انگیزی اب جدید سماجی ابلاغ کے زریعے دنیا کے کونے کونے میں پہنچ رہی ہے ۔ جو کچھ 15 جولائی کو ترکیہ میں ہوا اس نے شیخوپورہ کے رہنے والے اس نوجوان کو بھی متاثر کیا جو ابھی اپنی یونیورسٹی سے چھٹیوں پہ گھر آیا ہوا تھا ۔ جولائی کی وہ گرم رات میرے اور کچھ دوستوں کے لیے جو امور خارجہ سے دلچسپی رکھتے تھے بہت سخت رہی ۔ سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے کے خمیر سے اٹھنے والے یہ اذہان قاہرہ اور استنبول کے لیے ایسے ہی متفکر تھے جیسا کہ اسلام آباد کے لیے ۔
ہم رات گئے تک جاگتے رہے ۔ ٹویٹر اور فیس بک سے جو معلومات مل سکتی تھیں، حاصل کر رہے تھے ۔ اور جب صبح دیر سے اٹھے تو عجب خوشی نے اپنی بانہیں ہمارے گلے میں ڈال دیں اور خبر ملی کہ سیاہ رات ڈھل چکی ہے ۔
یہاں ہم ہی اکیلے نہیں جاگے تھے بلکہ ہماری ہونے والی بیگم جن کو اس وقت ہماری اور ہمکو انکی خبر نہیں تھی ، ہم سے کہیں زیادہ خطرناک صورتحال سے دو چار تھیں ۔
وہ بتاتی ہیں کہ رات کے سائے بڑھتے ہی چلے جا رہے تھے ۔ ہمارے مرحوم سسر عارف یلدیز رات نو بجے کے قریب گاڑی چلاتے ہوئے گھر کی جانب آ رہے تھے ۔ کہ انکو ہماری ساس کی کال موصول ہوئی کہ ٹی وی پہ عجیب سی خبر چل رہی ہے کہ فوج نے ملک کا انتظام سنبھال لیا ہے ۔
یہ سنتے ہی وہ گھر کی جانب تیزی سے پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس وقت استنبول کی ایشیائی جانب کے ضلع عمرانیے کی تمام بڑی سڑکیں آہستہ آہستہ بند ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔
وہ جیسے تیسے اپنے گھر پہنچے ہیں تو وہاں سب گھر والے پریشان بیٹھے ہوتے ہیں ۔ رشتہ دار ایک دوسرے کی خیریت پوچھ رہے ہوتے ہیں ، نظریں ٹی وی اسکرین پہ لگی ہوتی ہیں ، اور اچانک تمام ٹی وی چینلوں پہ ترک صدر کا ویڈیو پیغام نشر کیا جاتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی قریبی مسجد سے اعلانات کا سلسہ شروع ہوتا ہے ۔ تکبیرات کے ورد کرتے لوگ دیوانہ وار اپنے گھروں سے نکلتے ہیں ۔
ہمارے سسر اور انکا خاندان فیصلہ کرتا ہے کہ وہ عمرانیے سے نکلیں گے اور کسکلی ( kısıklı) اسکدار میں ترک صدر رجب طیب ایردوان کے گھر کے سامنے جا بیٹھیں گے اور وہاں خائن فوجی ٹولے کو پہنچنے نہیں دیں گے ۔ اس عزم کو لیے وہ گھروں سے نکل پڑے ۔ اسی اثنا میں نوجوانوں کی ٹولیاں استنبول کے مرکزی پل کی جانب جانے کا فیصلہ کرتی ہیں تاکہ فوجی نقل و حمل کو محدود کیا جا سکے ۔
کئی کلومیٹر کا فاصلہ پیدل چلنے کے لیے مرکزی راستوں کی بجائے ، چھوٹے راستوں کا انتخاب کرتے ہیں ۔ ترک صدر کے گھر کے قریب عوام کی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں اب سیلاب کا روپ دھار چکی تھیں ۔
وہاں ان جیسے کئی دیگر خاندان اپنے بچوں سمیٹ ملک کی حریت اور اپنے صدر کا دفاع کرنے موجود ہوتے ہیں ۔ جنگی طیارے نچلی پرواز کرتے ہوئے آسمان کو چیرتے ہوئے گزرتے ہیں ۔ لیکن لوگ ٹس سے مس نہیں ہو تے۔
بچے بھوک سے رونے لگتے ہیں تو ایک دکان دار اپنی دکان کا دروازہ کھول کر کہتا ہے کہ آؤمیرے بچو یہاں جو کچھ بھی ہے میری ملک و ملت کے لیے حلال ہے ۔ گویا پوری قوم ایک خاندان ہو ۔
اتنے میں خبر آتی ہے مرکزی پل پہ فوج کے خائن ٹولے نے عوام پہ گولیاں چلا دی ہیں اور 30 سے زائد افراد کی شہادت ہو گئی ہے ۔ یہ سنتے ہی وہاں موجود نوجوان اپنی ماؤں سے اجازت طلب کرتے ہیں کہ ہمیں بھی پل کی جانب جانے کی اجازت دی جائے ۔ خواتین بچوں اور بوڑھوں کے علاوہ ایک بڑی نوجوان لڑکوں کی تعداد پل کی جانب پیش قدمی کرتی ہے ۔ چاملیجہ اور استنبول کے مرکزی پل کے مابین لوگ اپنی مدد آپ کے تحت آمد و رفت کو یقینی بناتے ہیں۔
صبح سویرے استنبول کے پل پہ فوج نے شکست تسلیم کی , ترک صدر نے استنبول کے ایک ائیرپورٹ پہ عوام سے خطاب کیا اور یوں صبح آٹھ بجے کے قریب فتح کی سرشاری سے سرشار ترک عوام اپنے فرض کی ادائیگی کے بعد گھروں کو لوٹ گئے ۔ اس رات دو سو پچاس سے زائد افراد شہید ہوئے اور زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں تھی مگر جدید تاریخ میں استقامت اور حریت کی جو مثال ترک قوم نے پیش کی وہ قابل تقلید ہے ۔
انس اعوان -استنبول
