وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستانی ڈرامے اور فلمیں معیار، مقبولیت اور عالمی پذیرائی کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستانی ڈراموں اور فلموں کی بڑی تعداد میں ناظرین موجود ہیں، اسی لیے حکومت نے "اڑان پاکستان” کے تحت تخلیقی اور ثقافتی صنعت کو ملکی برآمدی حکمتِ عملی کا ایک اہم ستون قرار دیا ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
احسن اقبال کے مطابق نیٹ فلکس، ایمیزون پرائم اور دیگر عالمی او ٹی ٹی پلیٹ فارمز بین الاقوامی ناظرین تک رسائی کا مؤثر ذریعہ ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ علاقائی سیاسی عوامل کے باعث پاکستانی مواد کو طویل عرصے سے وہ مقام نہیں مل سکا جس کا وہ مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان اس وقت نیٹ فلکس سمیت دیگر عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے تاکہ علاقائی تقسیم کے موجودہ نظام میں بہتری لائی جا سکے اور پاکستانی ڈراموں، فلموں اور دیگر تخلیقی مواد کو عالمی سطح پر منصفانہ نمائندگی حاصل ہو۔ ان کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد پاکستانی تخلیق کاروں کے لیے پائیدار شراکت داری کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
احسن اقبال نے مزید کہا کہ حکومت صرف عالمی پلیٹ فارمز پر انحصار نہیں کر رہی بلکہ پاکستان کا اپنا ایک آزاد او ٹی ٹی پلیٹ فارم تیار کرنے پر بھی کام جاری ہے، جس کے ذریعے پاکستانی کہانیوں، ثقافت اور تخلیقی صلاحیتوں کو دنیا بھر کے ناظرین تک براہِ راست پہنچایا جا سکے گا۔ ان کے مطابق یہ اقدام ملکی تخلیقی صنعت کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور پاکستان کے مثبت تشخص کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا.
