ترکیہ دنیا بھر میں صرف امداد ہی نہیں پہنچا رہا، بلکہ تعلیم کے ذریعے بہتر مستقبل کی بنیاد بھی رکھ رہا ہے۔ ترکیہ کی تعاون و رابطہ ایجنسی TİKA نے کولمبیا کے قصبے ایل اوریخون میں قائم کیے گئے جدید اوریخون اسکول کے ذریعے ایک ایسے علاقے میں تعلیم کی نئی روشنی پہنچائی ہے، جو ماضی میں شورش اور بارودی سرنگوں سے شدید متاثر رہا تھا۔
سلجوقی طرزِ تعمیر پر تعمیر کیا گیا یہ جدید تعلیمی ادارہ ہر عمر کے طلبہ کو معیاری تعلیمی ماحول فراہم کر رہا ہے۔ اسکول کا افتتاح کولمبیا کے سابق صدر اور نوبیل امن انعام یافتہ خوان مینوئل سانتوس نے کیا تھا۔
یہ منصوبہ مئی 2017 میں کولمبیا کی حکومت، بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (IOM) اور TİKA کے باہمی تعاون سے مکمل کیا گیا۔ منصوبے کے ڈیزائن، تعمیر اور انتظامی امور کی ذمہ داری TİKA نے سنبھالی، جبکہ اس کا مقصد ایک ایسے گاؤں کو محفوظ اور جدید تعلیمی مرکز فراہم کرنا تھا، جو کبھی ملک کے سب سے زیادہ بارودی سرنگوں سے متاثرہ علاقوں میں شمار ہوتا تھا۔
یہ اسکول صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں، بلکہ کولمبیا میں امن، بحالی اور ترقی کی علامت بھی بن چکا ہے۔ یہاں نہ صرف ایل اوریخون بلکہ اردگرد کے چار دیہات کے بچے بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں، جبکہ اسی مرکز میں بالغ افراد کے لیے پیشہ ورانہ تربیت اور مختلف سماجی و ثقافتی سرگرمیوں کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے۔
مقامی رہنماؤں کے مطابق اس منصوبے نے علاقے میں استحکام، سماجی ترقی اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، اور یہ سابق شورش زدہ خطے میں ریاستی خدمات کی بحالی کی ایک اہم مثال بن گیا ہے۔
TİKA کا کہنا ہے کہ وہ دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے ہر عمر کے افراد کے لیے معیاری تعلیم تک رسائی کو فروغ دینے کے عزم پر قائم ہے، اور کولمبیا کا یہ منصوبہ اسی وژن کی ایک نمایاں مثال ہے۔
