Turkiya-Logo-top

کنگنا رناوت کی فلم ‘کوئین 2’ ڈھائی ارب روپے کے مقدمے کی زد میں، حق ملکیت کا تنازع شدت اختیار کر گیا

بھارتی فلم ساز ادارے فینٹم اسٹوڈیوز نے اداکارہ کنگنا رناوت کی متوقع فلم "کوئین 2” کے خلاف باضابطہ قانونی چارہ جوئی کر دی ہے۔ ادارے کا موقف ہے کہ یہ سیکوئل 2013 میں ریلیز ہونے والی مشہور فلم "کوئین” کا غیر مجاز اور بلا اجازت تسلسل ہے، جس کے باعث کاپی رائٹ اور دانشورانہ ملکیت کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق، جو بھارتی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے شائع کی گئی، فینٹم اسٹوڈیوز نے اس معاملے میں ڈھائی ارب بھارتی روپے (INR 2.5 بلین) ہرجانے کے طور پر طلب کیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق فینٹم اسٹوڈیوز نے قانونی راستہ اختیار کرنے سے قبل جیو اسٹار سے رابطہ کیا تھا تاکہ یہ تنازع باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ تاہم فریقین کے درمیان کوئی متفقہ حل تلاش نہ ہو سکا، جس کے نتیجے میں پروڈکشن کمپنی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

یہ قانونی تنازع دراصل فلم "کوئین” کے حقوق ملکیت سے جڑا ہوا ہے۔ اصل فلم فینٹم فلمز نے تیار کی تھی، جو انوراگ کشیپ، وکرم آدتیہ موٹوانے، مدھو منتینا اور وکاس بہل کی مشترکہ کاوش سے قائم ہونے والا ایک پروڈکشن ادارہ تھا۔ یہ کمپنی 2019 میں اس وقت تحلیل ہو گئی جب بھارت میں می ٹو تحریک کے دوران وکاس بہل پر جنسی بدتمیزی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔

2013 میں ریلیز ہونے والی "کوئین” کو بالی ووڈ کی چند بہترین کمنگ آف ایج ڈراموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وکاس بہل کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں کنگنا رناوت نے رانی کا کردار نبھایا، ایک ایسی نوجوان لڑکی جو اپنے منگیتر کی جانب سے چھوڑے جانے کے بعد تنہا اپنے ہنی مون پر روانہ ہوتی ہے۔ فلم کو مزاح، جذباتی گہرائی اور نسائیت پر مبنی موضوعات کے حسین امتزاج کی بدولت ناقدین کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی، جبکہ کنگنا کی شاندار اداکاری نے انہیں قومی فلمی ایوارڈ (نیشنل فلم ایوارڈ) برائے بہترین اداکارہ کا اعزاز دلوایا۔ فلم نے باکس آفس پر بھی زبردست کامیابی سمیٹی اور اسے بالی ووڈ کی جدید کلاسیک فلموں میں شمار کیا جانے لگا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

رواں سال کے اوائل میں کنگنا رناوت نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایک بار پھر وکاس بہل کے ساتھ مل کر "کوئین” کی کہانی کو نئے انداز میں آگے بڑھائیں گی۔ متوقع فلم میں رانی کے کردار کا سفر اصل فلم کے واقعات کے تقریباً ایک دہائی بعد جاری رہنے کا امکان ہے۔ تاہم اس نئے قانونی تنازع نے فلم کی تیاری اور ریلیز کے حوالے سے غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

اب تک نہ تو کنگنا رناوت اور نہ ہی فلم کے دیگر ذمہ داران کی جانب سے اس مقدمے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے۔ صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ بھارتی فلم انڈسٹری میں دانشورانہ ملکیت کے حقوق سے متعلق ایک اہم نظیر قائم کر سکتا ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جب اصل پروڈکشن کمپنی کسی وجہ سے تحلیل ہو چکی ہو۔

Read Previous

ترکیہ کے سفیر عرفان نذیراوغلو سے نائب چیئرمین پاکستان تائیکوانڈو فیڈریشن سید عون عباس کی ملاقات، کھیلوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

Read Next

ستر برس کی عمر میں تعلیم کا خواب پورا، ترکیہ کی خاتون نے نئی مثال قائم کر دی

Leave a Reply