Turkiya-Logo-top

ترکیہ کا دفاعی میدان میں بڑا سنگِ میل، "طیفون بلاک-3” اینٹی شپ بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ

ترکیہ نے دفاعی ٹیکنالوجی میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے "طیفون بلاک-3” اینٹی شپ بیلسٹک میزائل کا پہلا کامیاب تجربہ کر لیا۔ ترک دفاعی کمپنی Roketsan کے مطابق یہ تجربہ 4 جولائی کو بلیک سی میں کیا گیا، جہاں میزائل نے حرکت کرتے ہوئے 7 میٹر طویل بغیر پائلٹ بحری ہدف (USV) کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

یہ پہلی بار ہے کہ ترکیہ نے اپنے مقامی طور پر تیار کردہ کسی بیلسٹک میزائل میں ٹرمینل سیکر گائیڈنس سسٹم شامل کیا ہے، جس کی بدولت میزائل دورانِ پرواز حرکت کرنے والے بحری ہدف کی رفتار، سمت اور مقام میں ہونے والی تبدیلیوں کا اندازہ لگا کر آخری مرحلے میں اپنی سمت تبدیل کرتے ہوئے درستگی کے ساتھ ہدف تک پہنچ سکتا ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

اس سے قبل طیفون میزائل کے ابتدائی ورژن بنیادی طور پر پہلے سے طے شدہ زمینی اہداف، جیسے فوجی تنصیبات، ایئر بیسز، ریڈار اسٹیشنز اور لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیے گئے تھے۔ تاہم بلاک-3 اپ گریڈ کے بعد یہ میزائل سمندر میں موجود متحرک اہداف، بشمول جنگی بحری جہاز، کمانڈ شپ اور دیگر اہم بحری پلیٹ فارمز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت بھی حاصل کر چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہائپرسونک رفتار سے حرکت کرتے ہوئے ایک چھوٹے بحری ہدف کو نشانہ بنانا جدید میزائل ٹیکنالوجی کے پیچیدہ ترین مراحل میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے لیے میزائل کو چند سیکنڈ کے اندر ہدف کی شناخت، اس کی نئی پوزیشن کا تعین اور اپنی پرواز کے راستے میں فوری تبدیلی کرنا پڑتی ہے۔

ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کامیاب تجربے کو ترکیہ کی دفاعی صنعت کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر رجب طیب ایردوان نے اسے "سنچری آف ترکیہ” کے وژن کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

"دفاعی خود انحصاری کے سفر میں ملک ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق ترکیہ اب نہ صرف اپنی دفاعی ضروریات خود پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ جدید دفاعی ٹیکنالوجی تیار کرنے اور برآمد کرنے والے ممالک میں بھی نمایاں مقام حاصل کر رہا ہے، انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ترکیہ اپنی سرحدوں، بحری مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے جدید دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بناتا رہے گا”

ترک وزیرِ دفاع یاشار گولر نے بھی اس کامیاب تجربے کو مسلح افواج کی صلاحیت میں اہم اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ طیفون بلاک-3 مستقبل میں ترکیہ کے مربوط فضائی دفاعی نظام "اسٹیل ڈوم” کا ایک اہم جزو بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس نئی صلاحیت سے بحیرۂ روم اور بلیک سی میں ترکیہ کی دفاعی پوزیشن مزید مستحکم ہوگی۔ انہوں نے اس منصوبے پر کام کرنے والے روکیٹسان کے انجینئرز اور ماہرین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ترک دفاعی صنعت جدید ٹیکنالوجی میں مسلسل نئی کامیابیاں حاصل کر رہی ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طیفون بلاک-3 ترکیہ کی زمینی بنیادوں سے بحری اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے گا اور موجودہ اینٹی شپ کروز میزائلوں کے ساتھ مل کر ملک کی دفاعی حکمتِ عملی کو مزید مؤثر بنائے گا۔ تاہم اس کی زیادہ سے زیادہ مؤثر رینج، الیکٹرانک وارفیئر کے خلاف مزاحمت، بڑے جنگی جہازوں کے خلاف کارکردگی اور مختلف موسمی حالات میں صلاحیت جیسے پہلوؤں کی مزید جانچ مستقبل کے تجربات میں کی جائے گی۔

Read Previous

دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ، کور کمانڈرز کانفرنس

Read Next

ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے انقرہ پہنچ گئے، صدر اردوان نے استقبال کیا

Leave a Reply