Turkiya-Logo-top

دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ، کور کمانڈرز کانفرنس

راولپنڈی: جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں منعقد ہونے والی 276ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں، علاقائی امن، سندھ طاس معاہدے اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال سمیت اہم قومی و بین الاقوامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

اجلاس کے آغاز میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں شہید ہونے والے افسران، جوانوں اور شہریوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کی قربانیاں پاکستان کے امن، سلامتی اور استحکام کی بنیاد ہیں اور انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

کانفرنس کے شرکاء نے ملک کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے مسلح افواج کی آپریشنل تیاری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور دفاعی استعداد پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

فورم نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ افغان طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقوں کو بعض دہشت گرد گروہوں کی جانب سے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور معاونت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں اس مؤقف کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اپنے عوام کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن غضبُ الحق کے تحت کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں مؤثر طرزِ حکمرانی، عوامی خدمات اور ترقیاتی اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ امن و استحکام کو دیرپا بنیادوں پر یقینی بنایا جا سکے اور دہشت گردی و جرائم کے نیٹ ورک کا خاتمہ ممکن ہو۔

کور کمانڈرز کانفرنس نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ پاکستان مخالف عناصر روایتی محاذ پر ناکامی کے بعد ہائبرڈ جنگ، گمراہ کن اطلاعاتی مہمات اور بیرونی حمایت کے ذریعے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فورم نے واضح کیا کہ ایسی تمام کوششوں کا قومی حکمت عملی، مربوط اقدامات اور مضبوط عزم کے ساتھ مقابلہ کیا جائے گا۔

شرکاء نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور کشیدگی میں کمی، مذاکرات کے فروغ اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔ اجلاس میں تنازعات کے پرامن حل، بین الاقوامی قوانین کے احترام اور علاقائی تعاون کے فروغ کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

فورم نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق حالیہ بیانات کا جائزہ لیتے ہوئے قومی سلامتی کمیٹی کے 24 اپریل 2025 کے فیصلوں کی توثیق کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنے جائز آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔

اجلاس میں بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے سے متعلق پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا گیا۔ فورم نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دیا جائے۔

اجلاس کے اختتام پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کمانڈرز کو ہدایت کی کہ بدلتے ہوئے جنگی تقاضوں کے مطابق عسکری اصلاحات پر تیزی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی آپریشنل تیاری برقرار رکھی جائے اور روایتی، غیر روایتی اور ہائبرڈ خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جائے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

Read Previous

نیٹو اجلاس 2026: مارک روٹے کا دفاعی اخراجات کو عملی فوجی صلاحیتوں میں تبدیل کرنے پر زور

Leave a Reply