Turkiya-Logo-top

قدرتی آفات سے نمٹنے میں ترکیہ کا عالمی کردار قدرتی آفات سے نمٹنے کے شعبے میں ترکیہ نے اپنے تجربات دنیا کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے عالمی تعاون کو انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دے دیا۔

استنبول میں عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور ترکیہ کی وزارتِ صحت کے اشتراک سے منعقدہ وزارتی کانفرنس میں تقریباً 40 ممالک کے نمائندوں، جبکہ 12 ممالک کے وزراء اور نائب وزراء نے شرکت کی۔

ترکیہ کے وزیرِ صحت کمال میمیش اوغلو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زلزلے کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ چیلنج ہیں، اور ایسے بحرانوں کا مؤثر مقابلہ صرف سائنسی تعاون، مشترکہ حکمتِ عملی اور بین الاقوامی یکجہتی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ دنیا کے فعال ترین زلزلہ زدہ خطوں میں واقع ہے، اور ماضی میں آنے والے ہر بڑے زلزلے نے ملک کو اپنی صحت اور ہنگامی امدادی صلاحیت مزید بہتر بنانے کا موقع دیا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

وزیرِ صحت کے مطابق گزشتہ برسوں میں سٹی ہسپتالوں، جدید ایمرجنسی میڈیکل سروسز، ڈیجیٹل ہیلتھ انفراسٹرکچر، ایئر ایمبولینس سسٹم اور یو ایم کے ای (UMKE) ریسکیو ٹیموں پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی، جس سے قدرتی آفات کے دوران طبی خدمات کی استعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔

انہوں نے مقامی طور پر تیار کیے گئے گوک بے ایمبولینس ہیلی کاپٹر کو بھی متعارف کرایا، جو دشوار گزار علاقوں اور خراب موسم میں بھی بیک وقت دو مریضوں کو انتہائی نگہداشت کی سہولت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کمال میمیش اوغلو نے 6 فروری 2023 کے قہرمان مرعش مرکز زلزلوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس سانحے کے فوراً بعد وزارتِ صحت کا ہیلتھ ڈیزاسٹر کوآرڈینیشن سینٹر (SAKOM) فعال کر دیا گیا تھا اور ملک بھر سے امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں روانہ کی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس آپریشن میں ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد طبی اور امدادی اہلکار، 1,810 ایمبولینسیں، 245 یو ایم کے ای گاڑیاں اور 16 ایئر ایمبولینسز مسلسل خدمات انجام دیتی رہیں، جبکہ 51 ہزار 665 مریضوں کو زمینی، فضائی اور بحری راستوں سے محفوظ اسپتالوں تک منتقل کیا گیا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

زلزلہ متاثرہ علاقوں میں طبی سہولیات برقرار رکھنے کے لیے 34 فیلڈ ہسپتال، 176 ہنگامی طبی مراکز اور 130 رہائشی یونٹس بھی قائم کیے گئے، جہاں تقریباً چھ لاکھ افراد کو طبی خدمات فراہم کی گئیں۔ اس کے علاوہ ترک بحریہ کے ٹی سی جی بایراکتار اور ٹی سی جی سنجاکتار جہازوں کو بھی عارضی فلوٹنگ ہسپتالوں میں تبدیل کیا گیا۔

وزیرِ صحت نے کہا کہ مستقبل میں ممکنہ استنبول اور مارمارا زلزلے کے پیشِ نظر بھی جامع منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے۔ استنبول کو 10 طبی ریجنز میں تقسیم کیا گیا ہے، جبکہ ہر ریجن کو ملک کے مختلف صوبوں کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کی جا سکیں۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

انہوں نے مزید اعلان کیا کہ ترکیہ نے زلزلوں کے دوران عوامی صحت سے متعلق دنیا کی پہلی جامع رہنما دستاویز بھی تیار کی ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر کمال میمیش اوغلو نے کہا کہ ترکیہ قدرتی آفات سے متاثرہ ممالک کے ساتھ اپنے تجربات، تربیت یافتہ افرادی قوت اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کا تبادلہ جاری رکھے گا، کیونکہ انسانی جانوں کا تحفظ سرحدوں سے بالاتر ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Read Previous

ٹیلر سوئفٹ اور ٹریوس کیلس کی مبینہ شادی کی تقریبات کا آغاز، نیویارک میں مداحوں کا جوش عروج پر

Read Next

ترکیہ کے سفیر عرفان نذیر اوغلو کی گوجرانوالہ بزنس الائنس اور گفٹ یونیورسٹی کے نمائندوں سے ملاقات، ترکیہ_پاکستان تعلیمی و تجارتی تعاون کے فروغ پر اتفاق

Leave a Reply