Turkiya-Logo-top

لاہور ٹیوشن سینٹر سانحہ: 14 بچوں کی ہلاکت، مالک مکان سمیت 3 افراد گرفتار

لاہور کے علاقے کاہنہ میں نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مالک مکان، اس کے بھائی اور مرمتی کام کرنے والے مستری کو گرفتار کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

حادثہ منگل کی شام اس وقت پیش آیا جب ایک رہائشی مکان میں قائم نجی ٹیوشن سینٹر میں 30 سے زائد بچے موجود تھے۔ اچانک کمرے کی چھت منہدم ہو گئی، جس کے نتیجے میں متعدد بچے ملبے تلے دب گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 20 بچوں کو بحفاظت نکال لیا، تاہم 14 بچے جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ایک خاتون ٹیچر اور پانچ بچے زخمی ہوئے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں پانچ سے 16 سال کے درمیان تھیں، جن میں سات بچیاں بھی شامل ہیں، جبکہ زیادہ تر متاثرہ بچوں کی عمر نو سال سے کم تھی۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق عمارت کی چھت خستہ حال تھی اور اس پر مرمتی کام بھی جاری تھا۔ اطلاعات ہیں کہ اضافی بوجھ برداشت نہ کر پانے کے باعث چھت گر گئی، جس کے بعد پولیس نے غفلت اور لاپروائی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی ہدایت جاری کی ہے۔

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ متعلقہ ٹیوشن سینٹر رجسٹرڈ نہیں تھا اور ایک رہائشی عمارت میں قائم کیا گیا تھا، جس کی چھت بھی خستہ حالت میں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے مون سون سیزن کے پیش نظر غیر محفوظ عمارتوں کا سروے کرنے اور غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سینٹرز و نجی تعلیمی اداروں کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

یہ افسوسناک واقعہ تعلیمی مراکز میں حفاظتی انتظامات، عمارتوں کی حالت اور متعلقہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے حوالے سے کئی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تحقیقات کی روشنی میں ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

Read Previous

وسطی ایشیائی ریاستیں، تجارتی تعلقات کی نئی راہیںضیاء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز) پشاور

Read Next

پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس کے نئے دور کی تیاری، سرکاری ڈیٹا کو قومی اثاثہ قرار دینے کی تجویز

Leave a Reply