دونوں کی پہلی ملاقات اٹلی میں ایک زبان سیکھنے کے کورس کے دوران ہوئی، جہاں دوستی نے محبت کی صورت اختیار کی۔ شادی کا فیصلہ ہونے کے بعد جوڑے نے اپنی زندگی کے اس یادگار موقع کو دلہے کے آبائی شہر مدیات، ترکیہ میں منانے کا انتخاب کیا۔
شادی سے قبل تمارا ویرونیکا شریبر نے اسلام قبول کیا، جبکہ ان کی والدہ، بہن بھائی، قریبی رشتہ دار اور دوست خصوصی طور پر اٹلی سے مدیات پہنچے تاکہ اس منفرد اور یادگار تقریب میں شریک ہو سکیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
تقریبِ شادی مکمل طور پر مدیات کی روایات کے مطابق منعقد کی گئی۔ ڈھول کی تھاپ پر دلہا اور دلہن نے اپنی پہلی خوشی بھری رقص پیش کیا، جس کے بعد اطالوی مہمان بھی مقامی حَلَے میں شریک ہوگئے۔ دو مختلف ثقافتوں کے اس خوبصورت امتزاج نے تقریب کو مزید یادگار بنا دیا۔ بعد ازاں روایتی انداز میں کیک کاٹا گیا اور تحائف پیش کیے گئے۔
تاجدین اوزمین کا کہنا تھا کہ وہ بے حد خوش ہیں کہ انہیں اپنی خوشیوں میں اپنے آبائی شہر کو شامل کرنے کا موقع ملا۔
انہوں نے بتایا، "ہم دونوں اٹلی میں ایک زبان سیکھنے کے کورس کے دوران ملے تھے۔ میں نرس ہوں جبکہ میری اہلیہ وکیل ہیں۔ ہماری پہلی شادی اٹلی میں ہوئی، لیکن ہم چاہتے تھے کہ اپنے خاندان اور دوستوں کو مدیات کی خوبصورت ثقافت سے بھی روشناس کرائیں، اسی لیے دوسری تقریب یہاں منعقد کی۔”
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
اوزمین نے مزید بتایا کہ ان کی اہلیہ کے اہلِ خانہ مدیات کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے اور اسے ایک چھوٹا سا قصبہ سمجھتے تھے، لیکن یہاں آ کر وہ شہر کی تاریخی فضاء، پتھروں سے تعمیر شدہ منفرد فنِ تعمیر، ثقافتی ورثے اور سیاحتی حسن سے بے حد متاثر ہوئے۔
ان کے بقول، "ہمارے مہمان صرف شادی میں شرکت کے لیے آئے تھے، مگر اب وہ دوبارہ مدیات کی سیر کے لیے آنے کی خواہش رکھتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یہ شادی صرف دو افراد کا ملاپ نہیں بلکہ دو تہذیبوں اور دو ثقافتوں کے درمیان محبت، احترام اور ہم آہنگی کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ ان کے مطابق مدیات ہمیشہ سے مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے پرامن بقائے باہمی کی علامت رہا ہے، اور انہیں اپنے شہر پر فخر ہے۔
