پاکستان کی نوجوان سماجی کارکن بشریٰ ماہ نور نے کامن ویلتھ یوتھ ایوارڈ 2026 میں ایشیا ریجنل ونر کا اعزاز حاصل کرکے ملک کے لیے ایک اور بین الاقوامی کامیابی اپنے نام کر لی ہے۔ یہ اعزاز انہیں اپنی تنظیم ماہواری جسٹس (Mahwari Justice) کے ذریعے ماہواری کی صحت، صنفی مساوات اور پاکستان بھر میں سستی اور معیاری ماہواری مصنوعات تک رسائی کو فروغ دینے میں نمایاں خدمات پر دیا گیا۔
کامن ویلتھ یوتھ پروگرام کی جانب سے بشریٰ ماہ نور کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ نوجوان قیادت کی ایک بہترین مثال ہیں، جنہوں نے ایک ایسے سماجی مسئلے پر مؤثر انداز میں کام کیا جس پر برسوں سے کھل کر بات نہیں کی جاتی تھی۔ ان کی تنظیم نے نہ صرف خواتین اور لڑکیوں میں ماہواری سے متعلق آگاہی پیدا کی بلکہ کم آمدنی والے طبقے تک سستی حفظانِ صحت کی مصنوعات کی فراہمی کے لیے بھی عملی اقدامات کیے۔
رپورٹس کے مطابق کامن ویلتھ کے 56 رکن ممالک سے تقریباً 977 درخواستیں موصول ہوئیں، تاہم بشریٰ ماہ نور اپنی غیرمعمولی سماجی خدمات کی بدولت ایشیا کی ریجنل فاتح قرار پائیں۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی چوتھی پاکستانی اور دوسری پاکستانی خاتون بن گئی ہیں، جبکہ انہیں اپنی سماجی مہم کو مزید وسعت دینے کے لیے 3 ہزار برطانوی پاؤنڈ کی گرانٹ بھی دی جائے گی۔
بشریٰ ماہ نور نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد ماہواری جسٹس کی بنیاد رکھی تھی تاکہ متاثرہ خواتین اور لڑکیوں کو ماہواری کے دوران درپیش مشکلات کم کی جا سکیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ تنظیم ایک قومی سطح کی مہم میں تبدیل ہوگئی، جس کے ذریعے اب تک ایک لاکھ پچھتر ہزار سے زائد افراد تک آگاہی اور ضروری سہولیات پہنچائی جا چکی ہیں۔ تنظیم نے خصوصی افراد کے لیے بریل اور اشاروں کی زبان میں تعلیمی مواد بھی تیار کیا تاکہ ہر طبقے تک صحت سے متعلق معلومات پہنچ سکیں۔
بشریٰ ماہ نور نے ماہواری سے متعلق مصنوعات پر عائد ٹیکس کے خاتمے کے لیے بھی مؤثر مہم چلائی، جس کے نتیجے میں اس مسئلے پر عوامی توجہ مرکوز ہوئی اور پالیسی سازی کی سطح پر بھی پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ ان کی کوششوں کو خواتین کی صحت، وقار اور بنیادی سہولیات تک مساوی رسائی کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
بشریٰ ماہ نور کی یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی محنت اور عزم کا اعتراف ہے بلکہ یہ اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستانی نوجوان عالمی سطح پر سماجی تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا یہ اعزاز دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے اور نوجوانوں کو معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی ترغیب دینے کا باعث بنے گا۔
