Turkiya-Logo-top

انڈیا کی ریاست مہاراشٹرا میں مسلم پرسنل لا کے دفاع پر ثناء ملک تنقید کی زد میں

بھارت کی ریاست مہاراشٹرا میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کی رکن اسمبلی ثناء ملک کثرت ازدواج (ایک سے زیادہ شادیوں) کے حق میں دیے گئے اپنے بیان کے باعث سیاسی تنازعے کا مرکز بن گئی ہیں ان کے ریمارکس کے بعد اسمبلی کے اندر اور باہر مسلم پرسنل لا، خواتین کے حقوق اور یکساں سول کوڈ سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔

مہاراشٹرا اسمبلی کے مون سون اجلاس کے دوران خواتین کے مسائل، خاندانی تنازعات اور طلاق سے متعلق بحث جاری تھی جس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ثناء ملک نے مسلم پرسنل لا کے بعض پہلوؤں کا دفاع کیا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا خواتین کے خلاف ہونے والے تمام مظالم صرف مسلم خواتین تک محدود ہیں؟ ان کے مطابق کثرت ازدواج کے معاملے کو محض ایک مخصوص مذہبی یا سماجی طبقے کے تناظر میں دیکھنا درست نہیں

بحث کے دوران ثناء ملک نے کہا کہ اگر کسی قانون یا مذہبی اصول پر پاکستان میں عمل درآمد ہو رہا ہے تو ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسے یہاں بھی نافذ کیا جائے

انہوں نے اسمبلی میں کہا کہ
پاکستان میں بھی یہ قانون نافذ ہے، اگر یہاں بھی اسے نافذ کیا جائے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

بعد ازاں انہوں نے مزید کہا کہ اگر قرآن میں کسی معاملے کا ذکر موجود ہے اور اس پر عمل کیا جا رہا ہے تو اس پر سنجیدہ قانونی اور سماجی بحث ہونی چاہیے

ثناء ملک کے ریمارکس کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی حلقوں نے اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔ بعض رہنماؤں نے ان کے بیان کو متنازع قرار دیا جبکہ کچھ حلقوں نے اسے مذہبی آزادی اور پرسنل لا سے متعلق جاری بحث کا حصہ قرار دیا۔
ثناء ملک کے بیان نے کثرت ازدواج، مسلم پرسنل لا، خواتین کے حقوق اور خاندانی قوانین سے متعلق دیرینہ مباحث کو نمایاں کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر سیاسی اور قانونی سطح پر مزید بحث متوقع ہے

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

Read Previous

شوبز انڈسٹری کا غیر ملکی مواد پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز پر اعتراض

Read Next

توانائی اور بجلی کے شعبے میں پاک-ترک اسٹریٹجک شراکت داری: استنبول میں معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے

Leave a Reply