ترکیہ کے معروف آرینجر، کمپوزر اور ڈرمر مراد ییتَر نے ایک نیا اور منفرد میوزیکل پروجیکٹ پیش کیا ہے جس کا عنوان “FOLK” رکھا گیا ہے۔ اس البم میں ترکیہ کے نامور فنکاروں نے روایتی اناطولیائی لوک گیتوں کو جدید موسیقی کے انداز میں دوبارہ پیش کیا ہے۔
یہ پروجیکٹ صدیوں پرانی لوک دھنوں کو جدید پروڈکشن کے ساتھ جوڑتا ہے، جس کا مقصد ترکیہ کے بھرپور ثقافتی اور موسیقی ورثے کو نئی نسل اور بین الاقوامی سامعین تک پہنچانا ہے۔
البم میں ترکیہ کے مشہور فنکاروں کی ایک شاندار فہرست شامل ہے جنہیں ملکی موسیقی کا “ڈریم ٹیم” بھی کہا جا رہا ہے۔ ابتدائی ریلیز میں کینان دوغولو نے “Halay” کے ذریعے البم کا آغاز کیا، جبکہ سرکان کایا، سیدنور تورے، روباتو، محمود تونجر اور توغچے کاندیمیر نے بھی مختلف گانوں میں اپنی آواز کا جادو جگایا۔
بعد ازاں جاری ہونے والے نئے حصے میں جاندان ایرچیتن نے انقرہ کا مشہور لوک گیت “Bahçenizde Gül Var Mı” پیش کیا، جبکہ امرے التوگ نے بلقان اسٹائل میں “Dere Boyu Kavaklar” کو نئے انداز میں پیش کیا۔ لوک موسیقی کی معروف فنکارہ زارا نے “Garip Bir Kuştu Gönlüm” پیش کیا، جبکہ اداکار اوکتای قینارجا نے کلاسک گیت “Gesi Bağları” کو اپنی آواز دی۔
مراد ییتَر کے مطابق یہ البم صرف ایک میوزیکل پروجیکٹ نہیں بلکہ چالیس سال سے زائد کے سفر کی عکاسی ہے، جو استنبول کے علاقے کاسم پاشا سے شروع ہو کر شادی ہالز، میوزک وینیوز اور بین الاقوامی اسٹیجز، حتیٰ کہ ہیوسٹن جاز فیسٹیول تک پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ اس پروجیکٹ کا مقصد ترک لوک موسیقی کی روح کو دنیا تک پہنچانا اور اس کے روایتی حسن کو برقرار رکھتے ہوئے اسے جدید دور سے جوڑنا ہے۔
“FOLK” البم کو جمعہ کے روز تمام بڑے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ریلیز کر دیا گیا ہے، جہاں اسے سامعین کی جانب سے بھرپور دلچسپی حاصل ہو رہی ہے۔
