اسلام آباد میں ایک اہم سفارتی پیش رفت کے تحت وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدہ باضابطہ طور پر مکمل ہو گیا ہے
وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ معاہدہ الیکٹرانک طور پر دستخط کیا گیا جس میں دونوں ممالک کے سربراہان نے باضابطہ دستخط کیے جبکہ پاکستان نے اس پورے عمل میں بطور ثالث اور ضامن کردار ادا کیا جس کے بعد یہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔
معاہدے کے ابتدائی اقدامات کے تحت ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جبکہ امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس تاریخی پیش رفت میں متعدد عالمی رہنماؤں اور ممالک نے بھی کردار ادا کیا ہے قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کی سفارتی کوششوں کو خاص طور پر سراہا گیا ہے
پاکستان کی جانب سے اس پورے عمل میں ثالثی کردار کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے فیلڈ مارشل عاصم منیرکی کوششوں کو بھی خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کا باعث بنے گی بلکہ یہ پورے خطے میں تجارت، سفارت کاری اور تعاون کے نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
