اسلام آباد: کئی دہائیوں سے بداعتمادی، پابندیوں اور محاذ آرائی کی علامت سمجھے جانے والے امریکہ اور ایران کے تعلقات میں ایک تاریخی باب کا اضافہ ہوا ہے، جہاں پاکستان کی ثالثی میں ’’اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ (MoU)‘‘ پر الیکٹرانک دستخط کے ذریعے دونوں ممالک نے سفارت کاری اور مذاکرات کے راستے کو اختیار کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ اس پیش رفت کو نہ صرف خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ میں کمی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے پاکستان کے ابھرتے ہوئے سفارتی کردار کی بھی ایک نمایاں مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس معاہدے پر ریاستہائے متحدہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدور نے دستخط کیے ہیں، جبکہ پاکستان نے بطور ثالث اس مفاہمتی یادداشت کی توثیق کی ہے۔ اعلیٰ ترین سطح پر اس دستاویز پر دستخط اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ فریقین تنازع کے حل کے لیے طاقت کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کے راستے کو ترجیح دینے پر آمادہ ہیں۔
معاہدے کے تحت مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہوگی اور پہلے مرحلے میں ایران آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھول دے گا، جبکہ امریکہ ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدامات عالمی توانائی منڈیوں اور مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کی صورتحال پر بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی سفارت کاری سے وابستگی اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دینے کی پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت نے ایک ایسے بحران کو ٹالنے میں مدد دی جو پورے خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا تھا۔ انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم، بشمول جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے ایران کی اعلیٰ قیادت، سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کے تدبر، دور اندیشی اور امن کے لیے اختیار کیے گئے فیصلوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے اراکین محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی صبر، استقامت اور تعمیری کردار کو معاہدے کی تکمیل میں اہم قرار دیا۔
وزیراعظم نے قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کی کوششوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے اس سفارتی پیش رفت میں اہم اور ناگزیر کردار ادا کیا۔
انہوں نے خصوصی طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتھک کاوشیں، بے لوث وابستگی اور کلیدی کردار اس سفارتی پیش رفت کو ممکن بنانے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے نہایت اہم ثابت ہوئے۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ باہمی احترام، بہتر فہم اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد بنے گی اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگی۔
