استنبول سے شبانہ ایاز کی خصوصی رپورٹ
استنبول کی رامی لائبریری میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر یادگاری تصویری نمائش کا آنکھوں دیکھا حال ۔

ترکیہ میں پاکستان کے مثبت تشخص، قومی تاریخ، تہذیب و ثقافت اور بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے افکار و نظریات کو اجاگر کرنے میں پاکستانی سفارت خانہ انقرہ مسلسل فعال اور نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ خصوصاً ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید کی قیادت میں ایسی متعدد یادگار سرگرمیاں منعقد کی جا رہی ہیں جو نہ صرف دونوں برادر اسلامی ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم اور گہرا بنا رہی ہیں بلکہ ترک عوام بالخصوص نوجوان نسل کو پاکستان کی تاریخ، تہذیب، ثقافت اور قومی ہیروز سے قریب بھی کر رہی ہیں۔
انقرہ یونیورسٹی میں اردو زبان کے فروغ سے لے کر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں، ثقافتی پروگراموں، علمی و ادبی نشستوں اور نوجوانوں کے لیے خصوصی تقریبات تک، پاکستانی سفارت خانہ انقرہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عوامی سطح کے روابط اور ثقافتی تبادلے کو نئی جہت اور وسعت دے رہا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک اہم اور یادگار کڑی بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر استنبول کی تاریخی رامی لائبریری میں منعقد ہونے والی شاندار یادگاری تصویری نمائش ہے۔

اس تقریب میں ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید، استنبول کے نائب گورنر مہمت سُلون، ایوپ سلطان کے قائم مقام ضلع گورنر ڈاکٹر ارسلان یورت، رامی لائبریری کے ڈائریکٹر علی چیلیک، ماہرین تعلیم، ممتاز دانشور، سفارت کار، میڈیا نمائندے اور ترکیہ میں مقیم پاکستانی برادری کے اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
پاکستانی سفارت خانہ انقرہ، البیراک میڈیا گروپ اور رامی لائبریری کے مشترکہ تعاون سے منعقدہ اس نمائش میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زندگی، طویل سیاسی جدوجہد، قائدانہ صلاحیتوں اور قیامِ پاکستان کی تاریخ سے متعلق نایاب اور تاریخی تصاویر آویزاں کی گئیں۔ نمائش نے شرکاء کو قائداعظمؒ کے عظیم تاریخی کردار، ان کی گہری سیاسی بصیرت اور دور اندیش قیادت سے قریب سے روشناس کرایا۔

اپنے خطاب میں سفیر پاکستان ڈاکٹر یوسف جنید نے قائداعظمؒ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ محمد علی جناحؒ صرف پاکستان کے بانی ہی نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، جمہوری اقدار اور اصولی سیاست کے عالمی سطح کے علمبردار بھی تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قائداعظمؒ کا وژن آج بھی جدید ریاستی نظام، شفاف حکمرانی، قومی یکجہتی اور ترقی کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

ڈاکٹر یوسف جنید نے خاص طور پر زور دیا کہ قائداعظمؒ کے تین بنیادی اصول — اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط — آج بھی پاکستان کی قومی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قائداعظمؒ کی فکر و فلسفہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا میں انصاف، جمہوریت اور باوقار سیاسی جدوجہد کی ایک روشن علامت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

استنبول کے نائب گورنر مہمت سُلون نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کو بیسویں صدی کی اہم ترین سیاسی شخصیات میں شمار کرتے ہوئے ان کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تعلیمی و ثقافتی نمائشیں نوجوان نسل کو تاریخ کے عظیم رہنماؤں سے متعارف کرانے اور مختلف اقوام کے درمیان باہمی احترام، تفہیم اور دوستی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

معروف دانشور پروفیسر ڈاکٹر داود شہباز نے بھی قائداعظمؒ کی سیاسی بصیرت، آئینی جدوجہد اور ایک جدید، جمہوری، ہمہ گیر اور فلاحی ریاست کے تصور پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان کے بقول قائداعظمؒ کی سیاسی حکمت عملی اور اصولی قیادت آج بھی دنیا بھر کے موجودہ اور آئندہ سیاسی رہنماؤں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔

یہ نمائش محض ایک ثقافتی تقریب نہیں بلکہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان گہرے تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور برادرانہ تعلقات کی ایک خوبصورت اور زندہ علامت بھی ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات ہمیشہ سے باہمی اعتماد، خلوص، محبت اور مشترکہ اقدار پر استوار رہے ہیں۔ آج بھی مختلف شعبوں — سفارتکاری، معیشت، دفاع، تعلیم اور ثقافت — میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب تر آ رہے ہیں اور عوامی سطح پر روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔

ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید کی مسلسل کاوشیں اس حوالے سے خصوصی طور پر قابلِ ستائش ہیں کہ وہ روایتی سفارتی سرگرمیوں کو محض سرکاری سطح تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں عوامی، تعلیمی، علمی اور ثقافتی میدانوں تک پھیلا رہے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ یہ یادگاری تصویری نمائش نہ صرف بانیٔ پاکستان کے عظیم کردار اور افکار کو اجاگر کرتی ہے بلکہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان لازوال دوستی اور ابدی برادرانہ تعلقات کے ایک روشن اور مستحکم باب کی بھی عکاس ہے۔
