Turkiya-Logo-top

امریکہ۔ایران امن معاہدے کی دستخطی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا: وزیراعظم شہباز شریف

تین ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی خطرناک جنگ، جس نے مشرقِ وسطیٰ کو وسیع تصادم کے دہانے پر لاکھڑا کیا، اب سفارت کاری کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے علان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کی دستخطی تقریب 19 جون کو جنیوا میں منعقد ہوگی، جس کی میزبانی پاکستان کرے گا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ تین ماہ اور 16 دن پر محیط اس جنگ کے بعد امریکہ اور ایران فوری اور مستقل جنگ بندی پر متفق ہوئے ہیں۔ معاہدے کے تحت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا خاتمہ، ایران پر امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فریم ورک شامل ہے۔

پاکستان نے اس پورے عمل میں ثالثی اور رابطہ کاری کا کردار ادا کیا۔ اسلام آباد میں ابتدائی مذاکراتی دور کی میزبانی بھی کی گئی جہاں فریقین نے اعتماد سازی کے اقدامات پر بات کی۔ بعد ازاں مسلسل سفارتی رابطوں اور پسِ پردہ مذاکرات کے نتیجے میں وہ فریم ورک سامنے آیا جس پر اب جنیوا میں دستخط متوقع ہیں۔

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی جانب سے جنیوا میں ہونے والی دستخطی تقریب کی میزبانی ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے، جو نہ صرف خطے میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتی ہے بلکہ اسے ایک فعال ثالث کے طور پر بھی سامنے لاتی ہے۔

امریکی مؤقف کے مطابق یہ معاہدہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے، توانائی کی ترسیل کی بحالی اور عالمی منڈیوں کے استحکام کے لیے ناگزیر تھا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تیل سپلائی چین کو شدید متاثر کیا تھا، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑے۔

دوسری جانب ایران اسے اپنی معاشی بقا اور قومی سلامتی کے تناظر میں ایک ضروری پیش رفت قرار دیتا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ طویل جنگ، پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کے بعد یہ معاہدہ ایک مثبت اور خوش آئند موقع فراہم کرتا ہے جس سے خطے میں استحکام کی امید پیدا ہوئی ہے۔

اس معاہدے کی ایک اہم جہت آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کی سب سے اہم گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل کی تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی رکاوٹ کے اثرات فوری طور پر عالمی منڈیوں پر پڑتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ اپنی روح کے مطابق آگے بڑھتا ہے تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک خوش آئند پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں استحکام، تجارتی راستوں کی بحالی اور خطے میں کشیدگی میں کمی اس کے ممکنہ مثبت اثرات میں شامل ہیں۔

اگرچہ جنگ بندی کا اعلان ایک بڑی پیش رفت ہے، لیکن اصل امتحان اس پر عمل درآمد ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات، اسرائیل کی سکیورٹی پالیسی اور خطے میں طاقت کا توازن اب بھی ایسے عوامل ہیں جو اس معاہدے کے استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔

توانائی کے ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلنے کے باوجود عالمی تیل مارکیٹ کو مکمل استحکام حاصل کرنے میں وقت لگ سکتا ہے، کیونکہ بندش کے دوران پیدا ہونے والی سپلائی چین رکاوٹیں فوری طور پر ختم نہیں ہوتیں۔

مجموعی طور پر یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کو ایک بڑے علاقائی بحران کا سامنا تھا۔ موجودہ معاہدہ نہ صرف کشیدگی میں کمی کی امید پیدا کرتا ہے بلکہ اسے خطے میں امن اور استحکام کی جانب ایک اہم اور خوش آئند قدم بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

Read Previous

قومی نجات کا دن: وہ تاریخی دن جس نے آذربائیجان کی تقدیر بدل دی

Read Next

وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے برطانوی وزیر کی ملاقات، دوطرفہ تعاون اور علاقائی امن پر گفتگو

Leave a Reply