نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کے ہتھیاروں اور اسلحے سے متعلق پروگرام آف ایکشن کے تحت ریاستوں کے نویں دو سالہ اجلاس (BMS-9) میں افغانستان میں جدید ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخائر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال پاکستان سمیت پورے خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے کونسلر سید عاطف رضا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے ہتھیاروں اور ہلکے اسلحے کی غیر قانونی منتقلی، ان کا بے قابو استعمال اور عدم استحکام پیدا کرنے والے ذخائر تنازعات کو مزید پیچیدہ اور طویل بناتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ رجحان سماجی و معاشی ترقی کو متاثر کرتا ہے اور علاقائی و بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرات پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے ہتھیار اور ہلکا اسلحہ غیر ریاستی عناصر اور دہشت گرد گروہوں کے لیے تشدد پھیلانے کا اہم ذریعہ بن چکے ہیں۔ جدید اور مہلک ہتھیاروں تک غیر قانونی رسائی سے دہشت گرد تنظیموں کی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے، جو اکثر سرحدوں کے پار کارروائیاں کرتی ہیں۔
سید عاطف رضا نے نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی رپورٹس میں بھی افغانستان میں جدید اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہتھیار پاکستان سمیت پڑوسی ممالک کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ افغانستان میں دہشت گرد مسلح گروہوں تک غیر قانونی اسلحے کی رسائی روکنے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ طالبان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
خطاب میں مارچ 2026 میں منظور ہونے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2818 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ قرارداد میں افغانستان اور خطے میں چھوٹے ہتھیاروں اور ہلکے اسلحے کی غیر قانونی تجارت، ان کے عدم استحکام پیدا کرنے والے ذخائر اور پھیلاؤ کو روکنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے۔
پاکستان نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کے پروگرام آف ایکشن پر مؤثر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے اور سمجھتا ہے کہ چھوٹے ہتھیاروں اور ہلکے اسلحے کے غیر قانونی پھیلاؤ کے مسئلے سے جامع، متوازن اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت نمٹنا ضروری ہے تاکہ عالمی اور علاقائی امن و سلامتی کو مضبوط بنایا جا سکے۔
