پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِخارجہ اسحاق ڈار تین روزہ سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بین الاقوامی امن، سلامتی اور کثیرالجہتی عالمی نظام سے متعلق اعلیٰ سطح کے اہم اجلاس میں شرکت کریں گے۔
پاکستانی دفترِخارجہ کے مطابق یہ خصوصی اجلاس "بین الاقوامی امن و سلامتی اور استحکام برائے اقوامِ متحدہ کا عالمی نظام” کے عنوان سے منعقد کیا جا رہا ہے، جسے مئی 2026 کیلئے سلامتی کونسل کی گردشی صدارت رکھنے والے چین نے طلب کیا ہے۔
اجلاس کی صدارت چینی وزیرِخارجہ وانگ ای کریں گے جبکہ عالمی سفارتکاری، تنازعات کے سیاسی حل، بین الاقوامی قانون اور مؤثر کثیرالجہتی نظام کے مستقبل پر تفصیلی تبادلۂ خیال متوقع ہے۔
دفترِخارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اپنے دورے کے دوران مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ، سفارتی نمائندوں اور اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ حکام سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں خطے کی سلامتی، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، عالمی امن اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ پر گفتگو ہوگی۔
نیویارک آمد پر اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد اور نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل عامر احمد اَتوزئی نے ان کا استقبال کیا۔
پاکستان نے سلامتی کونسل میں اس اہم اجلاس کے انعقاد پر چین کے اقدام کو بروقت اور اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں اقوامِ متحدہ کے مرکزی کردار اور مؤثر عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اس فورم پر عالمی تنازعات کے پُرامن حل، ترقی پذیر ممالک کے مؤثر کردار، عالمی حکمرانی میں اصلاحات اور بین الاقوامی قوانین کی یکساں عملداری سے متعلق اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کرے گا۔
دورے کے دوران نائب وزیرِاعظم 28 مئی کو “گلوبل گورننس کے دوست ممالک کے گروپ” کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، جہاں عالمی چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹنے اور عالمی حکمرانی میں اصلاحات کے موضوع پر اہم مشاورت ہوگی۔
دفترِخارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان عالمی امن، سلامتی، پائیدار ترقی اور سفارتی تعاون کے فروغ کیلئے اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا، جبکہ اسلام آباد ایک متوازن، منصفانہ اور قانون پر مبنی عالمی نظام کے قیام کیلئے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے پُرعزم ہے۔
