Turkiya-Logo-top

استنبول میں 8ویں ایتھنو اسپورٹ کلچر فیسٹیول کا شاندار آغاز

استنبول کے اتاترک ایئرپورٹ نیشنل گارڈن میں جمعرات کے روز 8ویں ایتھنو اسپورٹ کلچر فیسٹیول کا باقاعدہ آغاز ہو گیا، جو چار روزہ عالمی ثقافتی اجتماع کی صورت میں 24 مئی تک جاری رہے گا۔ یہ فیسٹیول روایتی کھیلوں، ثقافتی ورثے اور بین الثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے دنیا بھر سے شرکاء کو یکجا کر رہا ہے۔

ورلڈ ایتھنو اسپورٹ یونین کے زیر اہتمام منعقد ہونے والا یہ ایونٹ تیزی سے ایک بڑے عالمی ثقافتی پلیٹ فارم میں تبدیل ہو چکا ہے، جس کا مقصد ان روایتی کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں کو زندہ رکھنا ہے جو جدید تجارتی کھیلوں کے نظام میں پس منظر میں جا چکے ہیں۔

افتتاحی تقریب میں ترک اعلیٰ حکام سمیت ورلڈ ایتھنو اسپورٹ یونین کے صدر بلال ایردوان، وزیر صحت کےمال میمی اوغلو، وزیر ثقافت و سیاحت محمد نوری ایرسوئے، وزیر نوجوانان و کھیل عثمان آقشِن باک اور استنبول کے گورنر داووت گل نے شرکت کی، جس سے اس ایونٹ کی ریاستی سطح پر اہمیت واضح ہوئی۔

تقریب کا آغاز گُل بانک روایتی پیشکش اور استنبول تاریخی ترک موسیقی کے مہتر بینڈ کی شاندار پرفارمنس سے ہوا، جس نے ثقافتی ورثے اور موسیقی کے امتزاج سے ماحول کو پروقار بنا دیا۔

بلال ایردوان نے کہا کہ اس سال کا تھیم “دنیا یہاں موجود ہے” ہے، جو مختلف ممالک جیسے جاپان، قازقستان، آذربائیجان، لیتھوانیا، روس اور کرغزستان کی شرکت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیسٹیول نسلوں کو جوڑنے اور بچوں کو روایتی کھیلوں سے براہ راست متعارف کرانے کا ایک ذریعہ ہے۔

وزیر صحت نے روایتی کھیلوں جیسے تیر اندازی، روغن کشتی، نیزہ بازی اور گھڑ سواری کو جسمانی صحت اور نظم و ضبط کے لیے اہم قرار دیا۔ وزیر ثقافت نے اسے امن، محبت، یکجہتی اور روایت کا امتزاج قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدار معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہیں۔

استنبول کے گورنر نے فیسٹیول کو شہر کی تاریخی شناخت اور ثقافتی ورثے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ استنبول کے عالمی ثقافتی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

فیسٹیول میں روایتی کھیلوں کے ساتھ ساتھ دستکاری، ثقافتی نمائشیں، علاقائی کھانے، موسیقی اور بچوں کے لیے انٹرایکٹو سرگرمیاں بھی شامل ہیں، جو مختلف ممالک کی ثقافتوں کو ایک ہی جگہ پر پیش کرتی ہیں۔

Read Previous

نائجیرین جوڑے کی ترکیہ میں کامیاب سرجری

Read Next

ٹکا اور ایچ بی آر آئی-نارک کے اشتراک سے عالمی یومِ شہد کی مکھی کی تقریب، زرعی تعاون کے فروغ پر زور

Leave a Reply