اسلام آباد: راولپنڈی کے نور خان ایئر بیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں پر پاکستان کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ دفتر خارجہ نے ان قیاس آرائیوں کو گمراہ کن، بے بنیاد اور محض سنسنی پھیلانے کی کوشش قرار دے دیا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض بین الاقوامی میڈیا ادارے (خصوصاً سی بی ایس نیوز) حقائق کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کر رہے ہیں، جس سے خطے میں جاری سفارتی کوششوں اور امن عمل کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
طیاروں کی آمد کا اصل مقصد کیا تھا؟
دفتر خارجہ نے طیاروں کی موجودگی کے حوالے سے درج ذیل حقائق واضح کیے ہیں:
- سفارتی مذاکرات میں معاونت: حالیہ جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں ہونے والے ابتدائی سفارتی مذاکرات کے دوران ایران اور امریکا کے متعدد طیارے پاکستان پہنچے تھے۔
- انتظامی اور لاجسٹک نوعیت: ان پروازوں کا واحد مقصد مذاکراتی عمل سے وابستہ سفارتی اہلکاروں، سکیورٹی ٹیموں اور انتظامی عملے کی آمد و رفت کو یقینی بنانا تھا۔
- بین الاقوامی پروٹوکول کی پاسداری: یہ تمام سرگرمیاں مکمل طور پر سفارتی نوعیت کی تھیں اور انہیں معمول کے بین الاقوامی سفارتی پروٹوکول کے تحت انجام دیا گیا۔
فوجی تیاری کے تاثر کی سختی سے تردید
دفتر خارجہ نے خاص طور پر اس تاثر کو یکسر مسترد کر دیا کہ نور خان ایئر بیس پر موجود ایرانی طیارہ کسی ‘فوجی ہنگامی منصوبے’، ‘دفاعی تیاری’ یا ‘خفیہ سکیورٹی انتظامات’ کا حصہ تھا۔ بیان میں دو ٹوک الفاظ میں کہا گیا کہ متعلقہ ایرانی طیارہ جنگ بندی کے دوران پاکستان آیا تھا اور اس کا مقصد صرف سفارتی معاملات تھے۔

پاکستانی حکام کے مطابق، مذاکرات کے ابتدائی مرحلے کے بعد بعض طیارے اور معاون عملہ عارضی طور پر پاکستان میں اس لیے موجود رہا کیونکہ فریقین کے درمیان آئندہ سفارتی نشستوں اور رابطوں کا قوی امکان برقرار تھا۔
پسِ پردہ سفارتی رابطے اور پاکستان کا تعمیری کردار
دفتر خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا نیا دور تاحال شروع نہیں ہوا، تاہم پسِ پردہ سفارتی رابطے، کوآرڈینیشن اور اعلیٰ سطحی مشاورت مسلسل جاری ہے۔
- ایرانی وزیر خارجہ کے دورے: ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد کے متعدد دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان نے پہلے سے موجود انتظامی اور لاجسٹک سہولیات استعمال کرتے ہوئے ان سفارتی سرگرمیوں میں مکمل معاونت فراہم کی۔
- شفافیت اور غیر جانبدارانہ مؤقف: پاکستان نے ہمیشہ ایک غیرجانبدار، ذمہ دار اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ اسلام آباد نے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ شفافیت کو برقرار رکھا ہے۔
خطے میں امن کے عزم کا اعادہ
دفتر خارجہ نے خبردار کیا کہ بعض حلقے جان بوجھ کر اس معاملے کو حساس رنگ دے کر خطے کی صورتحال کو مزید کشیدہ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ خطے میں اعتماد سازی کی کوششوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
بیان کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان آئندہ بھی خطے میں امن، استحکام، کشیدگی میں کمی اور مذاکراتی عمل کے فروغ کے لیے ہر ممکن سفارتی تعاون جاری رکھے گا۔ پاکستان کا یہ پختہ یقین ہے کہ موجودہ علاقائی چیلنجز کا واحد حل صرف بات چیت، تحمل اور سفارتکاری میں ہی پوشیدہ ہے۔
