Turkiya-Logo-top

ترکیہ اور بیلجیئم کا دفاع، تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

استنبول: ترکیہ اور بیلجیئم کے اعلیٰ حکام نے دفاع، ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور گرین انرجی کے شعبوں میں اسٹریٹیجک تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور دوطرفہ تجارت کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

یہ اہم پیش رفت استنبول میں منعقدہ ایک بڑے بزنس فورم کے دوران سامنے آئی، جس میں نجی شعبے کے 400 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ فورم بیلجیئم کی ملکہ میتھلڈ کی قیادت میں ترکیہ آنے والے "اقتصادی مشن” کا حصہ تھا، جسے ترک وزیر تجارت عمر بولات نے ترکیہ کی تاریخ کا سب سے بڑا بین الاقوامی تجارتی وفد قرار دیا ہے۔

تجارتی ہدف: 15 ارب ڈالر کی منزل

ترک وزیر تجارت عمر بولات نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ دونوں ممالک نے قریبی مدت میں دوطرفہ تجارتی حجم کو 9.2 ارب ڈالر سے بڑھا کر 15 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

  • موجودہ اعداد و شمار (2025): دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 9.2 ارب ڈالر رہا، جس میں ترکیہ کی برآمدات 5 ارب ڈالر اور درآمدات 4.2 ارب ڈالر تھیں۔
  • کسٹمز یونین: فورم میں ترکیہ اور یورپی یونین کے درمیان ‘کسٹمز یونین’ کی اپ گریڈیشن کو موجودہ عالمی حالات میں انتہائی ناگزیر قرار دیا گیا۔

صدر ایردوان اور ملکہ میتھلڈ کی ملاقات

بیلجیئم کی ملکہ میتھلڈ نے صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

  • صدر ایردوان نے اس بات پر زور دیا کہ کسٹمز یونین کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کرنا یورپی یونین میں ترکیہ کی مکمل رکنیت کی راہ ہموار کرنے کے لیے ضروری ہے۔
  • انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ علاقائی تبدیلیاں ترکیہ اور یورپی یونین کے تعلقات کی اسٹریٹیجک اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت داری

دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کی مضبوطی کا اندازہ ان اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے:

  • بیلجیئم کی ترکیہ میں سرمایہ کاری: 2002 سے جنوری 2026 تک بیلجیئم نے ترکیہ میں 9.3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔
  • ترکیہ کی بیلجیئم میں سرمایہ کاری: ترک کمپنیوں کی بیلجیئم میں سرمایہ کاری 490 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
  • سرگرم کمپنیاں: اس وقت 719 بیلجیئن کمپنیاں ترکیہ میں مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔

دفاعی تعاون: سب سے تیزی سے بڑھتا ہوا شعبہ

ترکیہ اور بیلجیئم نے دفاعی شعبے کو اپنی شراکت داری کا سب سے متحرک پہلو قرار دیا ہے:

  1. نمایاں اضافہ: ترکیہ کی دفاعی اور ایرو اسپیس برآمدات 2002 میں محض 248 ملین ڈالر تھیں، جو 2025 میں 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔
  2. نیٹو میں منفرد مقام: بیلجیئم کے وزیر دفاع تھیو فرانکن نے ترکیہ کی دفاعی صنعت کو نیٹو میں "منفرد” قرار دیتے ہوئے جدید ڈرون ٹیکنالوجی میں ترکیہ کی پیش رفت کو سراہا۔

مستقبل کا وژن: گرین انرجی اور لاجسٹکس

گرین انرجی اور جدید مینوفیکچرنگ کو مستقبل کی شراکت داری کے اہم ستون قرار دیا گیا ہے۔ صدر ایردوان نے واضح کیا کہ ترکیہ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں یورپ کے سرکردہ ممالک میں شامل ہے اور وہ بیلجیئم کے ساتھ مل کر اس شعبے میں مزید کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

Read Previous

پاکستان نیوی وار کالج لاہور میں “معرکۂ حق” کے موقع پر سیمینار کا انعقاد

Read Next

ترکیہ میں غذائی بحران کا کوئی خطرہ نہیں، ترک صدر

Leave a Reply