Turkiya-Logo-top

پاکستان کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کا جواب “وسیع اور دردناک” ہوگا, فیلڈ مارشل عاصم منیر

راولپنڈی: چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی “مہم جوئی” کا جواب انتہائی وسیع، دور رس اور دردناک ہوگا۔

انہوں نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں گزشتہ سال بھارت کے ساتھ ہونے والے تنازع میں پاکستان کی کامیابی کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کیا ۔ تقریب میں پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف سمیت اعلیٰ عسکری حکام نے شرکت کی۔

اپنے خطاب کے آغاز میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ یہ دن پاکستان، اس کے عوام اور مسلح افواج کے لیے باعث فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب سے لے کر 10 مئی تک پاکستان کی خودمختاری اور سرزمین کو چیلنج کرنے کی کوشش کی، تاہم قوم اور مسلح افواج نے مکمل اتحاد اور بھرپور عسکری صلاحیت کے ساتھ اس کا جواب دیا۔

انہوں نے کہا کہ “معرکۂ حق” صرف دو ممالک یا دو افواج کے درمیان روایتی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ دو مختلف نظریات کے درمیان ایک فیصلہ کن مرحلہ تھا۔ آرمی چیف کے مطابق اللہ کے فضل سے حق کو کامیابی اور باطل کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

فیلڈ مارشل منیر نے اپنی تقریر میں دعویٰ کیا کہ بھارت ماضی میں بھی مختلف فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے پاکستان پر دباؤ ڈالنے اور جنگی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ انہوں نے 2001، 2008، 2016 اور 2019 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت بارہا بے بنیاد الزامات، جنگی بیانیے اور محدود جارحیت کے تصورات کے ذریعے اپنے سیاسی اور عسکری مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

انہوں نے کہا کہ ہر مرتبہ پاکستان نے دشمن کے اندازوں کو غلط ثابت کیا اور اس بار بھی بھارت اپنی فرسودہ سوچ اور خود فریبی کا شکار ہوا۔ آرمی چیف کے مطابق آپریشن “بنیان مرصوص” کا مقصد دشمن کی اس حکمت عملی کو بے نقاب کرنا تھا جس کے تحت وہ اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر الزام تراشی کرتا ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ بھارت اس غلط فہمی میں مبتلا تھا کہ وہ پاکستان پر عسکری دباؤ ڈال کر خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کر سکتا ہے اور پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کر دے گا، تاہم عالمی اور دفاعی ماہرین بخوبی جانتے ہیں کہ بھارت کے عزائم اس کی صلاحیت سے کہیں زیادہ تھے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج کبھی طاقت کے دباؤ سے مرعوب نہیں ہوئیں اور نہ ہی آئندہ ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مستقبل میں پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کے اثرات محدود نہیں رہیں گے بلکہ انتہائی وسیع، خطرناک اور دردناک ہوں گے۔

آرمی چیف نے “معرکۂ حق” کے دوران شہید ہونے والے فوجی اور شہری افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت تمام شہدا کی قربانیاں قوم کے لیے ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہدا اور ان کے اہل خانہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں اور ان کی قربانیاں پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کی ضمانت ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی کامیابی کو اللہ کا فضل اور اپنی طاقت کو ایک ذمہ داری سمجھتا ہے۔ فیلڈ مارشل منیر نے صدر، وزیر اعظم، وفاقی کابینہ، سیاسی قیادت اور تمام قومی اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قومی اتحاد نے دنیا کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

آرمی چیف نے پاکستانی میڈیا، صحافی برادری اور نوجوانوں کی بھی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے دشمن کے پروپیگنڈے، سائبر وارفیئر اور نفسیاتی حربوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق یہ جنگ صرف میدان جنگ تک محدود نہیں تھی بلکہ معاشرے کے ہر شعبے میں لڑی گئی۔

انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں پاکستانی قوم نے بے مثال اتحاد کا مظاہرہ کیا اور ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد وطن کے دفاع کے لیے ایک آواز بن گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم، حکومت اور مسلح افواج کے درمیان مضبوط اعتماد نے ملک کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ فضائیہ نے دشمن کے کئی جدید لڑاکا طیارے تباہ کیے اور اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ نے جدید دور کی ایک اہم اور فیصلہ کن فضائی جنگ میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

انہوں نے پاک بحریہ کی کارکردگی کو بھی سراہا اور کہا کہ بحریہ نے مسلسل نگرانی اور مؤثر دفاع کے ذریعے دشمن کے جنگی جہازوں کو پاکستانی حدود سے دور رکھا۔ اسی طرح لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر تعینات افواج نے بھارتی جارحیت کو ناکام بناتے ہوئے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔

آرمی چیف نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے اس تنازع کے دوران بھارت میں 26 سے زائد فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جس کے بعد نئی دہلی نے عالمی طاقتوں کے ذریعے جنگ بندی کی خواہش ظاہر کی۔ ان کے مطابق پاکستان نے خطے میں امن کے وسیع تر مفاد میں جنگ بندی کو قبول کیا۔

فیلڈ مارشل منیر نے کہا کہ پاکستان کا دفاع کسی بھی بیرونی جارحیت کے مقابلے میں ناقابلِ تسخیر ہے اور ملک خطے میں طاقت کے توازن اور مؤثر دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کی توجہ جارحیت کے بجائے امن کے تحفظ پر ہے، تاہم امن کو برقرار رکھنے کے لیے ہر وقت تیار رہنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق مستقبل کی جنگیں صرف روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ سائبر وارفیئر، ڈرون ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید ہتھیار اہم کردار ادا کریں گے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بتایا کہ پاکستان کی مسلح افواج کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے نئے دفاعی ڈھانچے، خلائی پروگرام اور آرمی راکٹ فورس کمانڈ جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پاک بحریہ میں ہنگور کلاس آبدوزوں کی شمولیت، پاک فضائیہ کے لیے جدید لڑاکا طیاروں کے حصول اور “فتح” میزائل سیریز کو دفاعی صلاحیت میں اضافے کی اہم مثالیں قرار دیا۔

بھارت کے ساتھ یہ تنازع جو 22 اپریل کے پہلگام حملے سے شروع ہو کر 10 مئی کو آپریشن “بنیان مرصوص” اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی پر ختم ہوا ریاست پاکستان کی جانب سے اسے “معرکۂ حق” قرار دیا گیا ہے

Read Previous

معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ، افواج پاکستان کا قومی عزم اور دفاعی طاقت کے اعادے کا اعلان

Leave a Reply