تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جاری سفارتی کشیدگی اور ایران۔امریکا تعلقات میں غیر یقینی صورتحال کے دوران ایک انتہائی اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکا کی جانب سے پاکستان منتقل کیے گئے ایرانی تجارتی جہاز “توسکا” (Toska) کے عملے کے 15 ارکان کو باضابطہ طور پر ایران کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
سفارتی اور سیاسی مبصرین اس پیش رفت کو خطے میں جاری پسِ پردہ سفارتی رابطوں، امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد سازی، اور بالخصوص اس پورے عمل میں پاکستان کے انتہائی اہم علاقائی کردار کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
عملے کی وطن واپسی اور جذباتی مناظر
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق، عملے کے یہ ارکان پیر کے روز صوبہ سیستان و بلوچستان میں واقع ‘رمدان بارڈر ٹرمینل’ کے ذریعے ایرانی حدود میں داخل ہوئے، جہاں ایرانی بارڈر حکام، سیکیورٹی اہلکاروں اور مقامی انتظامیہ نے ان کا استقبال کیا۔
- کئی ماہ تک امریکی تحویل میں رہنے کے بعد وطن واپسی پر عملے کے افراد انتہائی جذباتی دکھائی دیے اور اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کے بعد انہوں نے گہرے اطمینان کا اظہار کیا۔
- عملے کی تفصیلات: امریکا نے جہاز کے مجموعی طور پر 22 عملے کے ارکان پاکستان کے حوالے کیے تھے۔ ان میں سے 15 افراد اب ایران واپس پہنچ چکے ہیں، 6 افراد کو گزشتہ ہفتے خطے کے ایک دوسرے ملک کے ذریعے واپس بھیجا گیا تھا، جبکہ ایک رکن کے حوالے سے تاحال تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ باقی معاملات بھی سفارتی سطح پر طے کیے جا رہے ہیں۔
جہاز ‘توسکا’ کی ضبطی کا پس منظر
یاد رہے کہ تجارتی جہاز “توسکا” کو امریکی حکام نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔
- امریکی مؤقف: امریکا کا الزام تھا کہ یہ جہاز مبینہ طور پر بحری ناکہ بندی اور ان تجارتی سرگرمیوں میں ملوث تھا جو ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔
- ایرانی مؤقف: تہران نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے امریکی کارروائی کو ایک “غیر قانونی قبضہ” قرار دیا تھا اور عملے کی رہائی کے لیے فوری سفارتی کوششیں شروع کر دی تھیں۔
پاکستان کا خاموش مگر مؤثر اور کلیدی کردار
سیاسی اور سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس پورے پیچیدہ معاملے میں پاکستان نے ایک خاموش مگر انتہائی مؤثر سفارتی کردار ادا کیا ہے۔ اسلام آباد نے نہ صرف انسانی بنیادوں پر عملے کی منتقلی میں سہولت اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی، بلکہ ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں کے لیے ایک متوازن اور سازگار ماحول بھی فراہم کیا۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور دونوں حریف ممالک کے ساتھ اس کے سفارتی روابط نے اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
امریکا۔ایران تعلقات میں ‘اعتماد سازی’ کی علامت
امریکی حکام کے مطابق، عملے کی یہ رہائی اور منتقلی ایران کے ساتھ جاری “اعتماد سازی” کی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔ خطے کے مبصرین کا ماننا ہے کہ ایسے وقت میں جب ایران کے جوہری پروگرام، خلیجی سلامتی اور امریکی پابندیوں پر شدید کشیدگی موجود ہے، اس نوعیت کے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ محدود سفارتی نرمی کی ابتدائی علامت ہو سکتے ہیں۔
اس پیش رفت پر ایرانی میڈیا میں عملے کی واپسی کو ایک “قومی کامیابی” اور سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی حکام نے اس معاملے پر محتاط مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں استحکام اور خالصتاً انسانی معاملات پر تعاون کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
