Turkiya-Logo-top

روس کے ہرمیٹیج میوزیم میں عثمانی اور اناطولیائی دلہن روایات کی شاندار نمائش کا آغاز

سینٹ پیٹرزبرگ: روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں واقع دنیا کے مشہور ترین عجائب گھروں میں شمار ہونے والے ‘ہرمیٹیج میوزیم’ (Hermitage Museum) میں ایک منفرد اور دلکش ثقافتی نمائش کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ یہ نمائش صدیوں پرانی ترک ثقافت، خاص طور پر عثمانی اور اناطولیائی دلہنوں کی روایات کی شاندار عکاسی کرتی ہے۔

نمائش کا عنوان اور سرپرستی

یہ شاندار تقریب ترکیہ کی خاتونِ اول کی خصوصی سرپرستی میں منعقد کی گئی ہے۔ نمائش کو “برائیڈل ٹریژرز: عثمانی اور اناطولیائی دلہنوں کا سفر” (Bridal Treasures: A Journey of Ottoman and Anatolian Brides) کا خوبصورت عنوان دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد دستکاری، روایتی ملبوسات اور شادی سے وابستہ تاریخی اشیاء کے ذریعے ترک ثقافت کے سنہرے دور کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔

افتتاحی تقریب اور پاک و ہند طرز کی گرمجوشی

افتتاحی تقریب میں ترکیہ اور روس کے اعلیٰ حکام، نامور سفارتکاروں اور ثقافتی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

  • ترکیہ کے وزیرِ تعلیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہرمیٹیج جیسے عالمی سطح کے میوزیم میں اس نمائش کا انعقاد ترکیہ اور روس کے درمیان ثقافتی و سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ایک شاندار علامت ہے۔
  • روسی میوزیم کے ڈائریکٹر نے ترک دستکاری اور باریک بین فن کی دل کھول کر تعریف کی اور اسے ‘عالمی ثقافت کا ایک انمول اور قیمتی حصہ’ قرار دیا۔

نمائش کے نمایاں اور نایاب نوادرات

اس نمائش میں 19ویں صدی اور اس سے قبل کی دلہن روایات سے متعلق 80 سے زائد نایاب نوادرات پیش کیے گئے ہیں، جو حاضرین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ان اشیاء میں شامل ہیں:

  • ریشم، مخمل اور ساٹن سے تیار کردہ شاہی طرز کے روایتی ملبوسات
  • ہاتھ سے کڑھائی کیا ہوا قیمتی جہیز کا سامان
  • قدیم اور روایتی زیورات
  • ترکیہ کے مشہور ہاتھ سے بنے دیدہ زیب قالین
  • شادی کی تقریبات اور عبادات سے جڑی تاریخی اشیاء

ثقافتی اہمیت اور اختتامی تاریخ

ثقافتی ماہرین کے مطابق، یہ نمائش محض اشیاء کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ ترکیہ کے عظیم ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر تہذیبی رابطوں کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

عوام کے لیے دستیابی: یہ تاریخی نمائش ہرمیٹیج میوزیم کے مشہور ‘سرمائی محل’ (Winter Palace) میں 26 جولائی تک عوام کے لیے جاری رہے گی۔ ثقافتی حکام کے مطابق، بے پناہ مقبولیت کے باعث مستقبل میں اسے دنیا کے دیگر بڑے بین الاقوامی عجائب گھروں میں بھی پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔

Read Previous

صدر رجب طیب ایردوان کا عالمی مقابلہ قرآت میں اہم خطاب: امتِ مسلمہ کے اتحاد پر زور

Read Next

عالمی سمود فلوٹیلا پر حملہ: ترکیہ کا سخت ردعمل، بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار

Leave a Reply