Turkiya-Logo-top

ٹرمپ–پیوٹن طویل ٹیلیفونک رابطہ: یوکرین جنگ اور ایران کے جوہری پروگرام پر اہم گفتگو

واشنگٹن / ماسکو: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ہونے والی ایک طویل اور غیر معمولی ٹیلیفونک گفتگو نے عالمی سیاسی اور سفارتی حلقوں کی بھرپور توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس اہم رابطے میں یوکرین میں جاری جنگ کے ممکنہ خاتمے، ایران کے جوہری پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال سمیت کئی حساس عالمی معاملات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

یوکرین میں ‘جزوی جنگ بندی’ کی امریکی تجویز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس گفتگو کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے اس رابطے کو "انتہائی مثبت اور طویل” قرار دیا۔ اس گفتگو کا سب سے بڑا محور روس–یوکرین جنگ رہی، جس کے ممکنہ حل کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا:

  • امریکی تجویز: ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے روسی صدر کو یوکرین جنگ میں ایک “مختصر اور جزوی جنگ بندی” کی تجویز دی ہے، تاکہ فوری طور پر لڑائی میں کمی لائی جا سکے اور سیاسی مذاکرات کے لیے راستہ ہموار ہو۔
  • روسی ردعمل: ٹرمپ کے مطابق، پیوٹن نے اس تجویز کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا بلکہ اس پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے، جسے ایک بڑی اور اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین جنگ نے خطے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ فوجی حل کے بجائے مستقل سفارتی حل تلاش کیا جائے۔ ان کے مطابق، روسی قیادت بھی کسی نہ کسی شکل میں اس تنازع کے خاتمے کی خواہاں دکھائی دیتی ہے۔

ایران کا جوہری پروگرام اور عالمی سلامتی

اس رابطے کا دوسرا اہم ترین پہلو ایران کا متنازع جوہری پروگرام تھا۔

  • روسی دلچسپی: گفتگو کے دوران روسی صدر نے ایران کے یورینیم افزودگی کے عمل میں دلچسپی ظاہر کی اور اس تنازع کو حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
  • امریکی مؤقف: ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ کا مؤقف بالکل غیر تبدیل شدہ ہے اور ایران کو کسی بھی صورت میں ‘جوہری ہتھیار’ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
  • انہوں نے بتایا کہ صدر پیوٹن بھی اس بات سے متفق ہیں کہ ایران کا ایٹمی طاقت بننا خطے کے استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

تاہم، ٹرمپ نے پیوٹن کو مشورہ دیا کہ فی الحال پوری دنیا کی توجہ یوکرین جنگ کے حل پر ہونی چاہیے، کیونکہ یہ مسئلہ عالمی امن کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، اس کے بعد دیگر علاقائی تنازعات پر پیش رفت کی جا سکتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ اور عالمی توانائی مارکیٹ

اس ٹیلیفونک گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور عالمی توانائی مارکیٹ کے دباؤ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ٹرمپ نے خلیجی ممالک اور اوپیک (OPEC) کے فیصلوں کو عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں توانائی اور جغرافیائی سیاست ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں۔

عالمی ردعمل اور تجزیہ: بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دنیا پہلے ہی یوکرین، ایران اور عالمی توانائی بحران جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ بڑی طاقتوں کے درمیان اس براہِ راست گفتگو کو ایک انتہائی اہم سفارتی قدم سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، کریملن (روس) کی جانب سے تاحال اس گفتگو کی تفصیلات پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر اس رابطے کے عملی نتائج اور ممکنہ پیش رفت کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں۔

Read Previous

دشمن کی نئی حکمت عملی”: ایران کو اندر سے کمزور کرنے کی سازش پر قالیباف کا سخت انتباہ

Read Next

چین میں پاک بحریہ کی پہلی ‘ہنگور کلاس’ آبدوز کی کمیشننگ: صدرِ مملکت آصف علی زرداری مہمانِ خصوصی

Leave a Reply