اسلام آباد: جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کو اسرائیلی افواج کی غیر قانونی تحویل سے رہا کر دیا گیا ہے، جس کے بعد انہیں استنبول منتقل کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (X) پر جاری اپنے پیغام میں سینیٹر مشتاق احمد کی باحفاظت رہائی کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔
گرفتاری کا پس منظر اور ‘صمود فلوٹیلا’
سینیٹر مشتاق احمد "گلوبل صمود فلوٹیلا” (Global Sumud Flotilla) نامی امدادی بحری بیڑے کا حصہ تھے، جو غزہ کے محصور اور جنگ زدہ عوام کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد لے کر جا رہا تھا۔

- بنیادی مقصد: اس فلوٹیلا کا مقصد غزہ پر عائد ظالمانہ اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑنا اور وہاں کے مظلوم عوام کو ہنگامی امداد فراہم کرنا تھا۔
- بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی: رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی بحریہ نے یونان کے جزیرے کریٹ (Crete) کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں اس امدادی بیڑے کو روکا اور سینیٹر مشتاق سمیت 200 سے زائد پرامن کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا بیان اور سفارتی کامیابی
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قوم کو اس سفارتی کامیابی کی خوشخبری دیتے ہوئے متعلقہ ممالک اور محکموں کی کاوشوں کو سراہا:


- یونان اور ترکیہ کا تعاون: انہوں نے جزیرہ کریٹ پر رہائی کے عمل میں تعاون کرنے پر یونانی حکام کا شکریہ ادا کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے حکومتِ ترکیہ کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے سینیٹر مشتاق کو 58 دیگر کارکنان کے ہمراہ استنبول منتقل کرنے میں مدد دی، جہاں سے وہ پاکستان روانہ ہوں گے۔
- پاکستانی سفارت خانے کا کردار: اسحاق ڈار نے دفترِ خارجہ اور ایتھنز (یونان) میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے کی گئی بروقت اور مؤثر کارروائی کی دل کھول کر تعریف کی۔
- فلسطین کی غیر متزلزل حمایت: انہوں نے اسرائیلی افواج کی جانب سے پرامن کارکنوں کی گرفتاری اور امداد کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور فلسطین کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
سینیٹر مشتاق کا عزم اور ساتھیوں کی قید
رہائی کے بعد سینیٹر مشتاق احمد نے اپنے پیغام میں بتایا کہ انہیں اور دیگر ساتھیوں کو بین الاقوامی حدود سے غیر قانونی طور پر "اغوا” کیا گیا تھا۔
- انہوں نے تشویشناک انکشاف کیا کہ اب بھی ان کے دو ساتھی (سیف اور تھیاگو) اسرائیلی فورسز کی تحویل میں بطور "یرغمال” موجود ہیں۔
- انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جب تک فلسطین مکمل طور پر آزاد نہیں ہو جاتا اور غزہ کا محاصرہ ختم نہیں ہوتا، ان کی یہ پرامن جدوجہد جاری رہے گی۔
Picture credit: Anadolu Agency
