تہران / اسلام آباد: ایران نے امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے ایک اہم سفارتی پیش رفت کرتے ہوئے اپنی نئی تجاویز پاکستان کو ارسال کر دی ہیں۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ‘ارنا’ (IRNA) کی تازہ رپورٹ کے مطابق، تہران نے یہ تجاویز جمعرات کے روز باضابطہ طور پر پاکستان کے حوالے کیں۔ رپورٹ میں اس بات کی ایک بار پھر تصدیق کی گئی ہے کہ پاکستان، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں باضابطہ ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اسلام آباد کی متحرک سفارتی کوششیں
سفارتی ذرائع کے مطابق، اسلام آباد دونوں حریف ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے اور تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے انتہائی متحرک اور کلیدی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
واضح رہے کہ ماضی میں پاکستان کی کامیاب ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد، اسلام آباد میں دونوں ممالک کے وفود کے مابین مذاکرات کا ایک دور منعقد ہو چکا ہے۔ تاہم، مختلف سفارتی کوششوں کے باوجود ان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ تاحال شروع نہیں ہو سکا تھا۔
‘پاکستان ہی باضابطہ ثالث ہے’، ایرانی وزارتِ خارجہ
اس حالیہ پیش رفت سے قبل، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی اپنے ایک بیان میں دو ٹوک الفاظ میں واضح کر چکے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت میں پاکستان مرکزی ثالث کی حیثیت رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ دنیا کے کئی ممالک اس معاملے میں ثالثی کے لیے تیار ہیں، لیکن تہران اور واشنگٹن کے درمیان موجودہ مذاکراتی رابطوں میں صرف پاکستان ہی باضابطہ ثالث تسلیم کیا گیا ہے۔
خطے میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار
سفارتی مبصرین کا ماننا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکہ کے لیے یہ نئی تجاویز پاکستان کو بھیجے جانے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام آباد خطے میں ایک انتہائی اہم سفارتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اس نئی پیش رفت کے بعد، ماہرین یہ توقع ظاہر کر رہے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان رکے ہوئے مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔
