تہران: ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس بات کی باقاعدہ تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں میں پاکستان ایک باضابطہ اور کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ایک حالیہ ٹیلی وژن انٹرویو کے دوران ترجمان نے موجودہ علاقائی صورتحال، عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات اور خلیجی ممالک کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
پاکستان کی ثالثی اور مذاکرات کے امکانات
اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے دنیا کے کئی ممالک کی جانب سے تعاون کی پیشکش کی جا رہی ہے، تاہم اس سفارتی عمل میں پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو باضابطہ طور پر ثالثی کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مستقبل میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے انعقاد کا کوئی حتمی فیصلہ کیا جاتا ہے، تو ایرانی حکومت اس حوالے سے سرکاری طور پر پوری دنیا کو آگاہ کرے گی۔
روس اور چین کے ساتھ مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ دورۂ روس اور روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ہونے والی اہم ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا:
- ایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدے کے تحت سیاسی، معاشی اور سکیورٹی شعبوں میں انتہائی وسیع تعاون جاری ہے۔
- موجودہ حساس علاقائی حالات کے تناظر میں، ایران مختلف ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ عالمی سطح پر اپنا مؤقف واضح کر سکے۔
- روس اور چین کے ساتھ مضبوط سفارتی تعاون ہی کی بدولت ایران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطے کے بعض ممالک کی مبینہ “شرپسندانہ کارروائیوں” کا مؤثر اور بھرپور جواب دینے میں کامیاب رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں ایران کا خلیجی ممالک کے خلاف سخت مؤقف
دوسری جانب، اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایراوانی نے خلیجی ممالک کے کردار پر سخت تنقید کی ہے۔
انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے ایک خط میں واضح کیا ہے کہ:
- بعض خلیجی ممالک نے اپنی سرزمین پر قائم فوجی اڈے ایران کے خلاف جارحیت کے لیے فراہم کر کے اس کشیدگی میں براہِ راست حصہ لیا ہے۔
- ان کا دعویٰ ہے کہ انہی غیر ملکی اڈوں سے ایران کی حدود پر میزائل اور فضائی حملے کیے گئے۔
واضح رہے کہ امیر سعید ایراوانی نے یہ جوابی خط خلیجی ممالک کی جانب سے بھیجے گئے ان حالیہ احتجاجی خطوط کے ردِعمل میں لکھا تھا، جن میں ایران پر ان کی سرزمین پر مبینہ فوجی حملے کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
